سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(426) فون یا انٹر نیٹ پر نکاح کرنا

  • 20075
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-05
  • مشاہدات : 494

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فون یا انٹر نیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیا جائے، آج کل بکثرت ایسے نکاح ہوتے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح کے لیے ایجاب و قبول رکن کی حیثیت رکھتا ہے، ایجاب لڑکی والوں کی طرف سے پیشکش ہوتی ہے جبکہ لڑکے والے اس پیش کش کو قبول کر لیتے ہیں، یہ معاہدہ خود زوجین بھی سر انجام دے سکتے ہیں اور ان کے نمائندے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ میں تمہاری شادی فلاں عورت سے کرا دوں؟ اس نے کہا ’’جی ہاں‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا کیا تمہیں پسندہے کہ میں تیری شادی فلاں مرد سے کرا دوں تو اس نے بھی ہاں کہا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی شادی کر ادی۔ [1]

 پھر نکاح کے لیے مزید چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے، عورت کی رضا مندی، سر پرست کی اجازت، حق مہر کا تعین اور گواہوں کی موجودگی، اگر مذکور ارکان و واجبات اور شرائط نکاح کے موقع پر موجو د ہوں تو نکاح صحیح ہے، بصورت دیگر نکاح درست نہیں ہو گا۔

فون یا انٹر نیٹ پر نکاح کی صورت میں اگر لڑکی والے اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی وہی آدمی ہے جس سے ہم اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو نکاح خواں زوجین کا ایجاب و قبول گواہوں کی موجودگی میں کرا دیتا ہے تو اس قسم کا نکاح درست ہے۔ صرف اتنا ہوتا ہے کہ دولہا میاں خود موجود نہیں ہوتا لیکن اس کی آواز سنی جاتی ہے، جسے اس کے رشتہ دار اور لڑکی کے سر پرست، گواہ وغیرہ سب پہچانتے ہیں۔ اس قسم کے نکاح میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے بشرطیکہ مذکورہ بالا ارکان و شرائط موجود ہوں۔ (واللہ اعلم)


[1]  ابوداود، النکاح: ۱۹۲۴۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:362

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ