سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(380) بیوی کا ظہار کرنا

  • 20029
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-04
  • مشاہدات : 255

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض دفعہ عورت اپنے خاوند سے کہہ دیتی ہے کہ تو مجھ پر اس طرح حرام ہے جس طرح میرا باپ یا میرا بھائی حرام ہے تو یہ ظہار کے حکم میں ہو گا؟ وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ظہار، خاوند کی طرف سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے’’تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے۔‘‘ ظہار کے متعلق قرآن کریم میں ہے:

﴿وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۳ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا١ ﴾ [1]

’’جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کر لیں تو ان کے ذمے آپس میں ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے متعلق تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے، ہاں جو شخص غلام آزاد کرنے کی ہمت نہ پائے اس کے ذمے دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں، قبل ازیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘

 بیوی کا شوہر کو حرام کرنا یا اسے اپنے کسی محرم رشتہ دار کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار کے حکم میں نہیں ہے بلکہ یہ قسم کے حکم میں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چیز کو حرام کر لیا تھا جو حلال تھی، تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ١ۚ ﴾[2]

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کیا ہے۔‘‘

 اس بنا پر عورت کے ذمے قسم کا کفارہ دینا ہے وہ دس مساکین کو کھانا کھلائے، اگر اس کی ہمت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھ لے جیساکہ سورۂ المائدہ۸۹ میں مذکور ہے۔ (واللہ اعلم)


[1] ۵۸/المجادلہ: ۳، ۴۔      

[2]  ۶۶/التحریم: ۲۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:331

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ