سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(735) والدہ کو نصیحت کرنے کے نتیجے میں اس کی ناراضگی کا سامنا کرنا

  • 19583
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-26
  • مشاہدات : 277

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں سمجھتی ہوں کہ میری والدہ صراط مستقیم پر نہیں تو جب کبھی میں اسے نصیحت کرتی ہوں تو وہ غصہ کرتی اور ناراض ہوجاتی ہے اور کئی کئی دن مجھ سے گفتگو  تک نہیں کرتی،لہذا میں اپنے اوپر اس کی اور اللہ کی ناراضگی کا شکار ہوئے بغیر اور اپنے اوپر اس کی بددعا سے بچتے ہوئے کیسے نصیحت کرسکتی ہوں،یا پھر اس کے رضا اور اس کی رضا کے ذریعے اللہ کی خوشنودی پانے کے لیے اس کو نصیحت کرنا چھوڑ دوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تیرا ذمہ ہے کہ تو اپنی والدہ کو بار بار نصیحت کرتی رہ اور اس کے فعل کے گناہ ہونے اور اس کی سزا کو بیان بھی کر،اور اگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو اس کے خاوند ،باپ یا اس کے ولی کو بھی بتاتا کہ وہ اسے نصیحت کریں۔اگر اس کا عمل بڑے بڑے گناہوں سے ہے تو اس سے ترک تعلق کرنے پر تمھیں کوئی گناہ نہیں اور نہ ہی اس کا بددعا کا یا تیرے حوالے سے اپنی نافرمانی یا قطع تعلقی کاالزام عائد کرنے سے تیر  اکچھ بگڑے گا۔تو نے تو اسے صرف اللہ کے لیے غیرت کھاتے ہوئے اور برائی کے انکار کے لیے ایسا کہا ہے۔تو اگر وہ عمل چھوٹے گناہوں سے ہے تو پھر قطع تعلقی کا کوئی حق نہیں۔(سماحۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین)

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 652

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ