سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(608) جب خاوند اپنی بیوی کو ماں بہن کی طرح اپنے اوپر حرام کرلے؟

  • 19456
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-25
  • مشاہدات : 658

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے خاوند نے مجھے طلاق کی قسم دے دی اور کہا:تم مجھ پر میری ماں اور بہن کی طرح حرام ہو لیکن پھر بھی ہم ایک دوسرے کی طرف پلٹنے اور میں سات ماہ کی حاملہ تھی۔میرے گھر والوں نے اس پر یہ حکم لگایا کہ  وہ وضع حمل سے پہلے تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اب مجھے دو ماہ ہوئے ہیں حمل وضع کردیاہے،میرے خاوند کے حالات تنگ ہیں،اس کا ارادہ تھا کہ وہ تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے مگر ابھی تک اس نے کھانا نہیں کھلایا۔میں ایک مسلمان اور دیندار عورت ہوں اور خشیت الٰہی سے سرشار ہوں اور ڈرتی ہوں کہ کہیں میں اپنے خاوند کے لیے حرام تو نہیں؟مجھے  فتویٰ دیجئے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تمہارےخاوند نے تم پر جو لفظ استعمال کیا ہے وہ طلاق نہیں ہے بلکہ ظہار ہے۔کیونکہ اس نے کہا:تم مجھ پر میری ماں بہن کی طرح حرام ہو۔اور ظہار،جیسا کہ اللہ عزوجل نے اس کی صفت بیان کی ہے،منکربات اور جھوٹ ہے ،پس تمہارے خاوند پر اپنی اس غلطی پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے توبہ کرنا لازم ہے،اور اس کے لیے تجھ سے لطف اندوزی کا فائدہ اٹھانا حلال نہیں ہے۔جب تک کہ وہ  اس حکم کی بجا آوری نہ کرے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ظہار کے کفارے کے متعلق فرمایا:

﴿وَالَّذينَ يُظـٰهِرونَ مِن نِسائِهِم ثُمَّ يَعودونَ لِما قالوا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مِن قَبلِ أَن يَتَماسّا ذ‌ٰلِكُم توعَظونَ بِهِ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ ﴿٣ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ مِن قَبلِ أَن يَتَماسّا فَمَن لَم يَستَطِع فَإِطعامُ سِتّينَ مِسكينًا ذ‌ٰلِكَ لِتُؤمِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَتِلكَ حُدودُ اللَّهِ وَلِلكـٰفِرينَ عَذابٌ أَليمٌ ﴿٤ إِنَّ الَّذينَ يُحادّونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ كُبِتوا كَما كُبِتَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَقَد أَنزَلنا ءايـٰتٍ بَيِّنـٰتٍ وَلِلكـٰفِرينَ عَذابٌ مُهينٌ ﴿٥﴾... سورةالمجادلة

"جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے (3) ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے (4) بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت والا عذاب ہے"

پس تمہارے خاوند کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ تمہارے قریب آئے اور تم سے لطف اندوز ہوجب تک کہ وہ اس حکم کو بجا نہ لائے جس کا اللہ نے اس کو حکم دیاہے،اور تمہارے لیے بھی حلال نہیں کہ تم اس کو اپنے اوپر لطف اندوز ہونے کی قدرت دو حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی بجا آوری کرے۔

رہا اس کے اہل کایہ کہنا"بلاشبہ اس پر تیس مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے"یہ قول درست اور صحیح نہیں ہے ،پس بلاشبہ آیت،جیسا کہ آپ نے سنا،اس پر دلالت کرتی ہے کہ بلاشبہ اس پر ایک گردن آزاد کرنا واجب ہے،اگر وہ یہ نہ پائے تو دو ماہ  کے مسلسل روزے رکھے،پھر اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

گردن آزاد کرنے کامطلب ہے کہ وہ مملوک غلام کو آزاد کرے اور اس کو غلامی سے نجات دلائے،اور دو ماہ کے مسلسل روزوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ دو ماہ کے اس طرح مکمل روزے رکھے کہ درمیان سے کسی ایک دن کابھی روزہ نہ چھوڑے،الا یہ کہ کوئی شرعی عذرہو،مثلاً:بیماری یاسفر،پھر جب عذر ختم ہوجائے توگزشتہ روزوں پر بنا کرتے ہوئے روزے مکمل کرے۔

رہا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تو اس کی دو صورتیں ہیں:یا تو وہ اتنا کھانا پکائے کہ ان مسکینوں کو بلا کر ایک ہی مرتبہ کھانا کھلادے یا وہ ان پر چاول یا اس جیسی دوسری کھائی جائے والی اجناس فی مسکین آدھا کلوگندم یا اس طرح کا غلہ،اور دیگر اجناس سے نصف صاع(ڈیڑھ کلو تقریباً) تقسیم کرے۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثمین  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 536

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ