سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(277) عورت روزہ کب رکھنا شروع کرے؟

  • 19125
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-12
  • مشاہدات : 382

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں چودہ سال کی تھی کہ مجھے ماہواری آئی اور میں نے اس سال رمضان کے روزے نہیں رکھے۔ معلوم رہے کہ یہ عمل میری اور میرے خاندان کی جہالت کی وجہ سے ہوا کیونکہ ہم اہل علم سے دور رہتے ہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں پھر جب میں پندرہ برس کی ہوئی تو میں نے روزے رکھے۔اسی طرح میں نے بعض مفتیان سے سنا کہ عورت کو جب ماہواری آئے تو اس پر روزہ فرض ہو جا تا ہے اگرچہ بلوغ کی عمر کو نہ پہنچی ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ سائلہ جس نے اپنے متعلق یہ بیان کیا کہ اسے چودہ سال کی عمر میں حیض آیا اور اسے یہ علم نہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ بالغ ہو گئی ہے تو اس نے جو اس سال کے روزے چھوڑے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ وہ ناواقف پر کوئی گناہ نہیں ہو تا لیکن جب اسے یہ علم ہو گیا کہ اس پر روزے فرض تھے تو اب وہ جلدی سے اس مہینے کے روزے کی قضا کرے جو اسے حیض کے بعد آئے تھے اس لیے کہ جب عورت بالغ ہو جاتی ہے اس پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ اور عورت کی بلوغت چار چیزوں میں سے کسی ایک چیز سے معلوم ہوتی ہے

1۔اس کی عمر پندرہ سال ہو جائے۔

2۔اس کے زیر ناف بال اگ پڑیں۔

3۔اسے احتلام ہونے لگے۔

4۔اسے حیض آنے لگے۔

جب ان چار چیزوں میں سے کوئی چیز حاصل ہو جائے تو وہ بالغ ہو جاتی ہے۔

شریعت کی مکلف ہو جاتی ہے اور اس پر اسی طرح عبادات واجب ہو جاتی ہیں جس طرح بڑی عمر کی عورت پر واجب ہوتی ہیں تو میں اس سائلہ کو کہتا ہوں۔ اب جب اس نے اس مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے جب وہ حائضہ ہوئی تو اب وہ اس مہینہ کے روزے رکھے اور وہ جلدی ایسا کر لے تاکہ اس سے گناہ زائل ہو جائے ۔ (فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 253

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ