سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(442) تایا زاد سے شادی کرنا جبکہ تایا سے رضاعی تعلق ہو..!

  • 1900
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 1529

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ جس کی تفصیل یہ ہے جب میری عمر سوا دو سال (2/1/4سال) تھی تو میری امی جان کو طلاق ہو گئی تھی امی جان نے طلاق سے ایک ماہ قبل دودھ پلانا ختم کر دیا تھا طلاق کے بعد چونکہ میں اپنی دادی جان کی تحویل میں آ گیا لہٰذا ماں کی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے میری دادی جان نے مجھے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیا یہاں ایک بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ میری دادی جان کی چھوٹی بچی میری پیدائش سے ۵ سال قبل چار ماہ کی عمر میں فوت ہو گئی تھی میری سوا دو برس کی عمر تک اسے فوت ہوئے سوا سات برس ہو چکے تھے اس وقت دادی جان کے بقول دودھ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔ لیکن کچھ عرصہ (تقریباً ۳۔۴ ماہ) دودھ چوسنے کی وجہ سے دودھ آہستہ آہستہ دوبارہ آ گیا جو ایک عرصہ تک میں نے پیا اس کے بعد جب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرےوالدین نے میری شادی میرے سگے تایا کی بیٹی سے طے کر دی چونکہ تایا جان نے بھی میری دادی جان کا دودھ پیا ہے لہٰذا رضاعت کا مسئلہ درپیش ہوا میرے والد محترم نے چند علمائے کرام سے ملاقات کر کے معاملہ کی شرعی حیثیت دریافت کی اور مجھے مطمئن کر کے شادی کر دی اب میری شادی کو ۴ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور میرے ہاں ۳ بچے بھی ہیں اب میں از خود تحقیق کرنا چاہتا ہوں براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح جواب سے مطلع فرمائیں ۔ تاکہ میں اس پر عمل کر کے جہنم کے عذاب سے بچ سکوں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ جس کی تفصیل یہ ہے جب میری عمر سوا دو سال (2/1/4سال) تھی تو میری امی جان کو طلاق ہو گئی تھی امی جان نے طلاق سے ایک ماہ قبل دودھ پلانا ختم کر دیا تھا طلاق کے بعد چونکہ میں اپنی دادی جان کی تحویل میں آ گیا لہٰذا ماں کی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے میری دادی جان نے مجھے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیا یہاں ایک بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ میری دادی جان کی چھوٹی بچی میری پیدائش سے ۵ سال قبل چار ماہ کی عمر میں فوت ہو گئی تھی میری سوا دو برس کی عمر تک اسے فوت ہوئے سوا سات برس ہو چکے تھے اس وقت دادی جان کے بقول دودھ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔ لیکن کچھ عرصہ (تقریباً ۳۔۴ ماہ) دودھ چوسنے کی وجہ سے دودھ آہستہ آہستہ دوبارہ آ گیا جو ایک عرصہ تک میں نے پیا اس کے بعد جب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرےوالدین نے میری شادی میرے سگے تایا کی بیٹی سے طے کر دی چونکہ تایا جان نے بھی میری دادی جان کا دودھ پیا ہے لہٰذا رضاعت کا مسئلہ درپیش ہوا میرے والد محترم نے چند علمائے کرام سے ملاقات کر کے معاملہ کی شرعی حیثیت دریافت کی اور مجھے مطمئن کر کے شادی کر دی اب میری شادی کو ۴ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور میرے ہاں ۳ بچے بھی ہیں اب میں از خود تحقیق کرنا چاہتا ہوں براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح جواب سے مطلع فرمائیں ۔ تاکہ میں اس پر عمل کر کے جہنم کے عذاب سے بچ سکوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رضاعی رشتہ ثابت ہونے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں۔

(1)دودھ پینے والا بچہ دو سال کی عمر کے اندر اندر دودھ پیے اگر دو سال عمر پوری ہو جانے کے بعد کسی عورت کا دودھ پیے گا تو اس کا اس عورت کے ساتھ رضاعی رشتہ قائم نہیں ہو گا نہ وہ بچہ دودھ پلانے والی عورت کا بیٹا بنے گا اور نہ ہی وہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بنے گی۔صحیح بخاری کتاب النکاح باب من قال:لارضاع بعدحولین ص1108

لقولہ عزوجل :

﴿حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِۖ لِمَنۡ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ﴾--بقرة233

’’پورے دو برس تک دودھ پلائیں جو کوئی دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے‘‘ اسی باب میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے

«فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ» ’’دودھ پلانا صرف بھوک سے ہے‘‘

(2) صحیح مسلم میں ہے ’’پانچ رضعات محرم ہیں‘‘(مسلم۔کتاب الرضاع۔باب التحریم بخمس رضعات) تو اگر دودھ پینے والا بچہ پانچ رضعات سے کم مقدار میں دودھ پیے گا تو بھی رضاعی رشتہ ثابت نہیں ہو گا مثلاً ایک ، دو ، تین یا چار رضعات پیے تو رضاعی بیٹا نہیں بنے گا نہ عورت رضاعی ماں بنے گی۔

صورت مسئولہ میں رضاعی رشتہ ثابت ہونے کے لیے دوسری چیز تو موجود ہے مگر پہلی چیز موجود نہیں کیونکہ بچے نے دادی کا دودھ دو سال عمر مکمل کر لینے کے بعد پیا ہے لہٰذا وہ اپنی دادی کا رضاعی بیٹا نہیں بنا اور نہ ہی دادی اس کی رضاعی ماں بنی ہے تو اس بچے کا تایا اس کا رضاعی بھائی نہیں بنا اور نہ ہی اس کے تایا کی اولاد اس کے بھتیجے بھتیجیاں بنتے ہیں الغرض یہ نکاح میاں کی اپنی رضاعی بھتیجی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے تایا کی بیٹی کے ساتھ ہے جو قرآن اور سنت کی رو سے درست ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِي هَاجَرۡنَ مَعَكَ﴾--الاحزاب50

’’اور  تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھی کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالائوں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی‘‘

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 315

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ