سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(713) علاتی بہن بھائی کا نکاح کرنا

  • 18320
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-19
  • مشاہدات : 1035

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، پھر ان دونوں میں علیحدگی ہو گئی، تو عورت نے ایک دوسرے آدمی سے شادی کر لی، اور ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی پھر ماں مر گئی اور بیٹی رہ گئی۔ ادھر پہلے آدمی نے ایک دوسری عورت سے شادی کر لی، جس سے ایک لڑکا ہوا۔ اب یہ لڑکا اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے جس کی ماں سے اس کے والد نے نکاح کیا تھا۔ اس لڑکے اور لڑکی کے نکاح کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جائز ہے کہ یہ لڑکا مذکورہ لڑکی سے نکاح کر لے، اگرچہ اس کے باپ نے لڑکی کی ماں سے نکاح کیا تھا۔ اور اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ﴾

’’اور تمہارے لیے سابقہ مذکورہ عورتوں کے علاوہ باقی سے نکاح کرنا حلال ہے۔‘‘

یہ لڑکی اس لڑکے کے لیے ان محرمات میں سے نہیں ہے جن کا قرآن کریم یا سنت میں بیان آیا ہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 511

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ