سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(710) عورت کے احسان کی وجہ سے اسے منہ بولی بہن بنانا

  • 18317
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-19
  • مشاہدات : 814

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اڑتالیس سال کی عمر کو پہنچ رہا ہوں۔ میں بیمار ہو گیا اور میرے پاس میرے گھر والوں میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ جہاں میں کام کرتا تھا وہاں میرا ایک مسلمان ساتھی تھا، اور میں تعاون اور مدد کا انتہائی محتاج تھا۔ چنانچہ اس نے میری انتہائی مدد کی حتی کہ مجھے اپنے گھر لے گیا۔ اس کی بیوی بھی مسلمان، دین دار اور قرآن کریم کی قاریہ تھی۔ میری بیماری کے دوران میں اس نے میری بڑی خدمت کی۔ جب میں شفایاب ہو گیا، الحمدللہ، تو میں نے چاہا کہ یہ عورت میری بہن بن جائے۔ اور میری اپنی کوئی بہن نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے درمیان قرآن مجید رکھا اور عہد کیا کہ یہ اللہ کی بندی میری بہن اور میرے لیے ہر طرح کے حالات کی محرم ہو گی۔ اور ہمارا یہ عہد و پیمان اس کے شوہر کی رضا مندی اور اس کے بیٹے بیٹیوں کی موافقت اور ہمارے خاندان کی موافقت سے ہوا ہے، اور میں اسے اپنی حقیقی بہنوں کی طرح سمجھتا ہوں۔ تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اس کا ہاتھ چھو سکوں؟ اور کیا جائز ہے کہ حج کے سفر میں میں اس کا محرم بن جاؤں؟ میرے اکثر عزیزوں کو اس معاہدے کی خبر ہے۔ میں اس بارے میں شریعت اسلامی کی رو سے جواب چاہتا ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے دوست نے جو آپ کی مدد کی اور اس کی بیوی نے جو آپ کی خدمت سر انجام دی، اس سب کے باوجود وہ عورت آپ کے لیے محرم نہیں بن سکتی ہے، وہ آپ کے لیے غیر اور اجنبی ہے۔ محرم ہونے کا سبب یا تو نسب ہے یا رضاعت یا شرعی اصول و ضوابط کے تحت مصاہرت (تعلق نکاح)۔ آپ کے لیے اسے اپنے ہاتھ وغیرہ سے چھونا یا سفر حج وغیرہ میں محرم بننا جائز نہیں ہے، بلکہ آپ کے لیے اس کے ساتھ علیحدگی اور خلوت میں ہونا بھی جائز نہیں ہے خواہ اس کا شوہر اور وہ اس کام کے لیے راضی ہوں۔ آپ کا اس کے ساتھ اجانب اور غیر محرم اغیار والا ہے۔ آپ کے ذمے ہے کہ اس کے لیے اور اس کے شوہر اور اقارب کے لیے جہاں تک ہو سکے حسن سلوک اور شکریے کا معاملہ کرو۔ اس کی کئی صورتیں ہیں۔ بدنی طور پر کسی کام میں ان سے تعاون کرنا، مال خرچ کرنا اور ہر طرح سے نصیحت اور خیرخواہی کرنا وغیرہ اعمال جو آپ اچھے انداز میں کر سکتے ہوں اور وہ اس کے محتاج اور ضرورت مند بھی ہوں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 509

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ