سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(187) پیسوں کے عوض زمین رہن رکھنا

  • 17513
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-20
  • مشاہدات : 380

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نےچار ہزار کےعوض کچھ زمین رہن کی ہے کیامرتہن کےلئے اس مرہونہ زمین سےفائدہ اٹھانا جائز ہوگا؟ورنہ آنحالیکہ راہن کونفع میں شریک کرلیا گیا ہےجس طرح سواری یادودھ والے جانور سےانتفاع اس کےچارہ گھاس دانہ کےعوض جائز ہےکیا اس طرح ارض مرہونہ سےاس کی نگہداشت مزدوروں اور بیلوں کےانتظامی تردد اوراپنا کافی روپیہ لگاکر بندوبست نیز سرکاری پوست خشک سالی کےضروری مصارف کےعوض انتفاع جائز ہوگایا نہیں؟درآنحالیکہ سال بہ سال ایک معین رقم سےراہن کوبھی نفع میں شریک کرلیا گیا ہو۔اگر ایسا ہوکہ ضروری مصارف کےبعد جوبھی نفع ہوراہن کومجرادے دیا جائےتوکوئی شخص مرتہن ایسی زمین کےلئے اپنی فکری وذہنی ترداات دوڑ دھوپ محنت ومشقت وخدمت کوکیوں کرگوار کرے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اراضی مرزوعہ مرہونہ سےمرتہن کےلئے فائدہ اٹھانا ہرگز جائز نہیں خواہ مرتہن نفع میں راہن کوشریک کرے یانہ اوراخواہ راہن نےاس کوانتفاع کی اجازت دی ہویا نہ۔صحابہ تابعین تبع تابعین ائمہ محدثین فقہا سب کااس پر اتفاق ہے۔سواری اوردودھ والے جانور سےبقد خرچ کےفائدہ اٹھانا خود قیاس کےخلاف ہے(لیکن حدیث صحیح کی وجہ سے قیاس کوچھوڑا دیاگیا) تو اس پر زمین کوکیوں قیاس کیاجاسکتا ہے۔وقدبسط البسط الكلام عليه العلامة الورع الشيخ عبدالجبار الغزنوى فى فتاواه وابن قدامة فى المغني(7/511)اشد البسط فارجع اليهما.

شريعت اسلامی نے آپ کوزمین گروہ لینے پر مجبور کیا ہے کہ بغیر اکل مال بالباطل والی صورت اختیار کئے ہوئےآپ اس پر عمل نہ کرسکیں۔مسلمانوں کےمعاملات بےحد خراب ہوچکےہیں۔عموما مشتبہ مشکوک بلکہ غیرطیب اورناجائز طریقہ پرفائدہ اٹھانےکی عادت پڑگئی ہےاس لئے مشروع اورجائز صورت پر عمل کرنامشکل بلکہ ناممکن معلوم ہوتا ہےاوراس لئے ناجائز ذرائع کوحلال وجائز کرنےکےلئے طرح طرح کےشکوک وشبہات وحیلے تراشے جاتے ہیں ۔ان للہ الیہ راجعون

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الرہن

صفحہ نمبر 386

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ