سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(224)ایک عورت کی بیٹی تھی اور دوسری کا بیٹا، دونوں نے ایک دوسری کے بچے کو دودھ پلایا ان دونوں پینے والے بچوں کے بہن بھائیوں میں سے کون دوسرے کے لیے حلال ہوں گے؟

  • 16609
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-17
  • مشاہدات : 760

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہاں دو عورتیں ہیں۔ پہلی کے پاس بیٹا ہے اور دوسری کے پاس بیٹی۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کے بچے کو دودھ پلایا۔ ان دوودھ پینے والے بچوں کے بہن بھائیوں میں کون دوسرے کے لیے حلال ہوں گے؟ (سعید۔ا)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کوئی عورت کسی لڑکے کو ابتدائی دو سالوں کے دوران پانچ گھونٹ یا اس سے زیادہ اپنا دودھ پلائے تو وہ اس عورت کی اولاد کا اور اس کے خاوند کی اولاد کا وضیع (دودھ شریک بھائی) بن جاتا ہے۔ اب جو اولاد اس دودھ پلانے والی عورت کی ہوگی خواہ وہ اس خاوند سے ہو، جو صاحب بہن ہے یا کسی دوسرے خاوند سے ہو۔ سب اس رضیع بچہ کے رضاعی بہن بھائی بن جائیں گے۔ اور خاوند صاحب بہن کی اولاد خواہ وہ اس دودھ پلانے والی بیوی سے ہو یا کسی دوسری بیوی سے ہو، اس رضیع بچہ کے بہن بھائی بن جائیں گے اور اس دودھ پلانے والی (مرضعہ) کے بھائی رضیع کے ماموں اور رضاعی باپ کے بھائی رضیع کے چچے اور مرضعہ کا باپ رضیع کا نانا اور مرضعہ کی ماں رضیع کی نانی اور رضاعی باپ کا باپ رضیع کا دادا اور اس کی ماں رضیع کی دادی بن جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ محرمات کے بارے میں سورہ نساء میں فرماتے ہیں:

﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ ... ٢٣﴾...النساء

’’اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی۔‘‘

اور نبیﷺ نے فرمایا:

((یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَب))

’’رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔‘‘

نیز آپﷺ نے فرمایا:

((لَا رِضَاعَ الَّا فی الْحَولَیْنِ))

’’رضاعت وہی معتبر ہے جو بچپن کے ابتدائی دو سالوں میں ہو۔‘‘

اور جیسے صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضى الله عنها سے ثابت ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ’’جو کچھ قرآن میں اترا وہ دس گھونٹ تھے، جن سے حرمت ہوتی تھی۔ پھر وہ حکم پانچ گھونٹ کے حکم سے منسوخ ہوگیا اور جب نبیﷺ نے وفات پائی تو اسی پر عمل تھا۔‘‘      یہ الفاظ ترمذی کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں موجود ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ