سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(190)جب گزر بسر دشوار ہو جائے اور عورت طلاق کا مطالبہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

  • 16545
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-15
  • مشاہدات : 530

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر عورت طلاق کا مطالبہ کرے، تو شرع کا کیا حکم ہے جبکہ گزر بسر دشوار ہو جائے۔ جس کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:

اولاً: میرا خاوند جاہل ہے اور میرا حق نہیں پہچانتا۔ مجھے اور میرے والدین پر لعنت کرتا رہتا ہے۔ اس نے میرا نام یہودیہ، نصرانیہ اور رافضیہ رکھا ہے لیکن میں اپنے بچوں کی وجہ سے اس کی بداخلاقی پر صبر کرتی ہوں لیکن جب میں التہاب المفاصل (جوڑوں کے درد) کے مرض میں مبتلا ہوگئی تو ایسی باتوں پر صبر کرنا میرے بس سے باہر ہوگیا اور مجھے اس کی باتوں سے سخت تکلیف ہونے لگی۔ حتیٰ کہ مجھے اس سے کلام کرنے کی بھی طاقت نہ رہی۔ لہٰذا میں نے اس سے طلاق طلب کی تو اس نے انکار کر دیا۔ یہ خیال رہے کہ یہ تقریباً چھ سال کی بات ہے کہ میں اس کے گھر میں اپنے بچوں کے پاس رہ رہی ہوں۔ میں اس کے نزدیک ایسے ہی ہوں جیسے مطلقہ یا اجنبی۔ لیکن وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے۔ میں فضیلت مآب سے اپنے سوال کے جواب کی توقع رکھتی ہوں۔ (ل۔ ع۔ م۔ الریاض)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اگر خاوند کا یہ حال ہے جو آپ نے ذکر کیا ہے، تو طلاق کے مطالبہ میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس کے برے رہن سہن اور بدکلامی جیسی زیادتیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے کچھ مال دے دیں تاکہ وہ آپ کو طلاق دے دے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان باتوں پر صبر کریں۔ ساتھ ہی اچھے انداز میں اسے نصیحت کرتی رہیں اور اپنے بچوں کی خاطر اور اس کے آپ پر اور آپ کے بال بچوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے اس کے لیے ہدایت کی دعا کرتی رہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس میں آپ کے لیے اجر اور انجام کی بہتری ہوگی اور ہم تمہارے خاوند کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور استقامت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے کہ وہ نماز ادا کرتا ہو اور دین کو گالی نہ دیتا ہو۔

اور اگر وہ نماز ادا نہیں کرتا اور دین کو گالی دیتا ہے تو وہ کافر ہے اور آپ کے لیے اس کے ساتھ رہنا اور اپنے آپ کو اس کے قبضہ میں دینا جائز نہیں کیونکہ اسلام کو گالی دینا یا اس سے استہزاء کفر اور گمراہی ہے اور اہل علم کے اجماع کے مطابق دین سے ارتداد ہے۔ کیونکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

﴿قُلْ أَبِاللَّـهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ﴿٦٥﴾لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ... ٦٦﴾...التوبة

’’آپ کہہ دیجئے کیا تم اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے ہنسی کرتے تھے؟ بہانے مت بناؤ۔ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔‘‘

اور اس لیے بھی (آپ کو خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے) کہ علماء کے دو اقوال میں سے صحیح تر قول کے مطابق نماز چھوڑنا کفر اکبر ہے۔ اگرچہ وہ اس کے وجوب کا منکر نہ ہو۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہd کی حدیث سے ثابت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

((بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ تَرْکُ الصَّلَاة))

’’آدمی اور کفر وشرک کے درمیان نماز کا ترک ہے۔‘‘

اور امام احمد اور اہل السنن نے بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

((الْعَھْدُ الَّذی بینَنا وبینَھمُ الصَّلاة، فَمَنْ تَرَکَھا فَقَدْ کَفَرَ))

’’ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان عہد نماز ہے۔ لہٰذا جس نے اسے چھوڑ دیا۔ اس نے کفر کیا۔‘‘

اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے، کتاب وسنت میں اس پر دوسرے دلائل بھی موجود ہیں۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ