سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(172)میری والدہ کا وقف کردہ مکان گر چکا ہے، کیا میرے لیے جائز ہے کہ اسے بیچ کر نیکی کے کاموں میں لگا دوں؟

  • 16527
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-15
  • مشاہدات : 381

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میری والدہ نے ایک مکان وقف کیا تھا۔ اس مکان پر ایک طویل مدت گزر چکی ہے۔ حتیٰ کہ وہ سکونت کے قابل نہیں رہا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس وقف کو منتقل کر دوں۔ اس مکان کو بیچ دوں اور اس کی قیمت مسجد میں لگا دوں یا نیکی کی جمعیت کو دے دوں یا دوسرے بھلائی کے کاموں میں صرف کر دوں۔ کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا؟ (زید۔ م۔ الریاض)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کو وقف میں نہ تصرف کرنے کا حق ہے اور نہ اس معین مقصد میں تبدیلی کا حق ہے، جو وقف کرنے والے نے معین کیا ہو۔ لیکن جب اس وقف کے مصالح ختم ہو جائیں تو اس جیسی چیز میں تبدیل کرنا جائز ہے یا جو اس چیز کے قائم مقام ہو۔ خواہ زمین ہو یا دکان یا کھجور کا باغ۔ اور اس کی آمدنی اسی مد میں خرچ کی جائے جس مد میں مذکورہ مکان کی آمدنی خرچ ہوتی تھی اور یہ کام شہر میں موجود وقف کے محکمہ کی وساطت سے ہونا چاہیے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ