سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(411) اگر گھر کا خرچ بیوی چلاتی ہو تو کیا یہ شوہر پر قرض ہو گا؟

  • 16021
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-09
  • مشاہدات : 364

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر خاوند کام نہ کرتا ہو اور بیوی ملازمت کر کے گھر کا خرچ چلاتی ہو اور یہ طے نہ ہوا ہو کہ یہ خرچ بیوی کی طرف سے صدقہ ہے تو کیا یہ سب خرچ خاوند کے ذمہ قرض شمار ہو گا؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر میاں بیوی کے درمیان کوئی بات طے نہ ہوئی ہو تو یہ خرچہ ہبہ اور خیرات کے حکم میں ہو گا اور بیوی کو حق نہیں کہ وہ خاوند سے اس کا مطالبہ کرے اس لیے کہ اس نے یہ سب کچھ اپنے اختیار سے خرچ کیا ہے۔

لیکن اگر کوئی شرط ہوکہ یہ خرچہ واپس کیا جائے گا تو پھر اور بات ہے اور اسے واپس کرنا ہو گا کیونکہ مسلمان اپنی شرائط پوری کرتے ہیں لہٰذا اس صورت میں بیوی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے خاوند سے اس وقت سارے خرچہ کا مطالبہ کرے جو اس نے بچوں اور گھر پر خرچ کیا ہے جب خاوند کے پاس مال آجائے اور وہ غنی ہو جائے ۔(واللہ اعلم)(شیخ ابن جبرین )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص499

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ