سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(408) مرد عورت کے خرچ کا ذمہ دار ہے مگر اسے تنگی میں نہ ڈالا جائے

  • 16016
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-09
  • مشاہدات : 1088

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے اور میری بیوی کے درمیان مالی معاملات کے بارے میں بہت زیادہ اختلافات رہتے ہیں وہ مجھ سے ہر وقت مہنگی اشیاء کا مطالبہ کرتی رہتی ہے اور میری مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی،میں نے شادی سے پہلے اسے اور اس کے میکے والوں کو اپنی مالی حالت کے بارے میں بھی بتایا تھا۔اب میں اور وہ ہمیشہ جھگڑے میں رہتے ہیں وہ مجھے بخیل اور میں اسے فضول خرچ ہونے کاالزام لگاتا ہوں،اب مجھے اس مشکل میں کیا کرنا چاہیے جو کہ علیحدگی تک جاپہنچی ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیوی کے حقوق میں سے عظیم حق یہ ہے کہ خاوند اس پر خرچ کرے اور اس کانان ونفقہ برداشت کرنا بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے قرب اور اطاعت کابہت بڑا ذریعہ ہے نفقہ ان اشیاء پر مشتمل ہے کھاناپینا ،لباس،رہائش،اوربیوی اپنے بدن اپنی بہتر  رونق قائم رکھنے کے لیے جس چیز کی محتاج ہو۔آپ نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ آپ کی بیوی نفقہ میں کمی کا شکایت کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مرد ہی عورتوں پر خرچ کرنے والے ہیں ان کا خرچہ مردوں کے ہی ذمہ ہے اور اسی وجہ سے انہیں گھر میں سربراہی اور عورتوں پر فضیلت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

"مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ  اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔"(النساء:3.4)

خرچہ کے وجوب پر قرآن وسنت اور اہل علم کا اجماع دلالت کرتا ہے۔

قرآن میں ہے کہ :

﴿وَعَلَى المَولودِ لَهُ رِ‌زقُهُنَّ وَكِسوَتُهُنَّ بِالمَعر‌وفِ لا تُكَلَّفُ نَفسٌ إِلّا وُسعَها...﴿٢٣٣﴾... سورة البقرة

"اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جو دستور کے مطابق ہو ہر شخص اتنی ہی تکلیف دیا جاتا ہے جتنی اس میں طاقت ہو۔"

او ایک د وسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فرمایا ہے:

﴿وَإِن كُنَّ أُولـٰتِ حَملٍ فَأَنفِقوا عَلَيهِنَّ حَتّىٰ يَضَعنَ حَملَهُنَّ...﴿٦﴾... سورة الطلاق

"اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرو حتیٰ کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔"

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے حجۃ الوداع کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

"عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں انہیں تم نے اللہ تعالیٰ کی امان کے ساتھ حاصل کیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ حلال کیا ہے اور ان کا تم پر نان ونفقہ  اور لباس (واجب ) ہے اچھے طریقے کے ساتھ۔"( مسلم(1218) کتاب الحج باب حجۃ النبی)

حضرت عمرو بن حواص رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

"عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور میر ی نصیحت قبول کرو وہ تو تمہارے پا قیدی ہیں تم ان سے کسی چیز کے مالک نہیں لیکن اگر وہ کوئی فحش کام اور نافرمانی وغیرہ کریں تو تم انہیں بستروں سے الگ کردو اورانہیں مار کی سزا دو  لیکن شدید اور سخت نہ مارو اگر تو وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو تم ان پر کوئی راہ تلاش نہ کرو۔تمہارے تمہاری عورتوں پر حق ہیں اور تمہاری عورتوں کے بھی تم پر حق ہیں۔(ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ) جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ اسے تمہارے گھر میں داخل نہ ہونے دیں خبردار!تم پر ان کے حق بھی ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں کھانا پینا اور رہائش بھی اچھے طریقے سے دو۔"( حسن صحیح ابن ماجہ(1501) ارواء الغلیل(1997) ترمذی(1163) کتاب الرضاع باب ما جاء فی حق المراۃ علی زوجھا احمد(3/426)ابو داود(3334) ابن ماجہ(1851)

اور معاویہ بن حیدہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   سے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  !ہم پر کسی ایک بیوی کا حق کیا ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:

"جب تم خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ اور جب خود لباس  پہنوتو اسے بھی پہناؤ اور اس کے چہرے کو بدصورت نہ کہو اور چہرے پر  نہ مارو۔"( حسن صحیح۔صحیح ابو داود(1875) کتاب النکاح باب فی حق المراۃ علی زوجھا ابو داود(2142) ابن ماجہ(1850) کتاب النکاح باب حق المراۃ علی الزوج ابن حبان(4175)

امام بغوی  رحمۃ اللہ علیہ  کہا کہنا ہے:

امام خطابی  رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے:

امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں  کہ ا س حدیث میں عورت کے نان ونفقہ اور لباس کا وجوب پایا جاتا ہے اور وہ خاوند کی حسب استطاعت ہوگا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے خرچہ ولباس کو بیوی کا حق قرار دیاہے۔تو پھر خاوند حاضر ہویاغائب ہرحال میں عورت کو یہ دینا ہوگا اوراگر اس کے پاس فی الوقت یہ موجود نہ ہوتو خاوند کے ذمہ واجب حقوق کی طرح یہ بھی قرض شمار ہوگا۔

اور وہب رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   کے ایک غلام نے انہیں کہا کہ میں بیت المقدس میں ایک مہینہ قیام کرنا چاہتا ہوں تو عبداللہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   اسے کہنے لگے کیا تو نے اس  مہینے کا  ا پنے گھر  والوں کو خرچہ دے دیا  ہے؟اس نے جواب دیا کہ نہیں۔تو وہ کہنے لگے اپنے گھر واپس جاؤ اور انھیں ایک ماہ کا راشن دے کرآؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ:

"آدمی کو یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اسے ضائع کردے۔"( صحیح ابوداود ،ابوداود(1692) کتاب الزکاۃ باب فی صلۃ الرحم ارواء الغلیل(894) صحیح الجامع الصغیر(4481)

صحیح مسلم کی روایت میں یہ لفظ ہیں:۔

"آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جس کی خوراک کا ذمہ دار ہے اس سے(ہاتھ) روک لے۔"(مسلم(996) کتاب الزکاۃ باب فضل  النفقۃ عی العیال والمملوک نسائی(295) احمد(2/160)حاکم(1/451) حمیدی(599)

حضرت انس رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:

"یقیناً اللہ تعالیٰ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا کہ آیا اس نے ان کی حفاظت کی یا انہیں ضائع کردیا حتیٰ کہ مرد سے اس کے  گھر والوں کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔"( حسن صحیح صحیح الجامع الصغیر(1774)

اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   کی حدیث میں ہے  کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:

"اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی ایک جنگل میں جاکر لکڑیاں کاٹے اور اسے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر بیچے اور اس کے ساتھ  غناحاصل کرے اور اس میں سے صدقہ وخیرات کرے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے اور پھر وہ اسے دے یا نہ دےاور اوپر والا(دینے والا) ہاتھ نیچے والے(لینے والے ہاتھ) سے بہتر ہے،اور جو لوگ آپ کی کفالت میں ہیں ان سے شروع کرو۔"( مسلم(1042) کتاب الزکاۃ باب کراھۃ لمسالۃ لناس بخاری(2074) کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہ بیدہ ترمذی(680) کتا ب الزکاۃ باب ماجاء فی النھی عن المسالۃ نسائی(2583) احمد(7493) شر ح السنۃ للبغوی(1615) بیہقی(4/195) حمیدی(1056) ابن حبان (3387)

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے کہ جب شوہر بالغ ہوں تو ان پر ان کی بیویوں کا نان نفقہ بالاتفاق واجب ہے صرف نافرمان بیوی کا واجب نہیں یہ بات امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ  نے ذکر کی ہے۔( المغنی لابن قدامہ(7/564)

مذکورہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے  کہ آدمی پر اس کے گھر والوں کا خرچہ اور ان کی ضروریات پوری کرنا واجب ہے اور بہت ساری احادیث میں اس کی بطور خاص فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی یہ علم ہونا چاہیے کہ خاوند پر صرف اسی حساب سے خرچ واجب ہے جس قدر اس میں طاقت ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا بھی  فرمان ہے:

﴿لِيُنفِق ذو سَعَةٍ مِن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ‌ عَلَيهِ رِ‌زقُهُ فَليُنفِق مِمّا ءاتىٰهُ اللَّهُ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا ما ءاتىٰها ...﴿٧﴾... سورة الطلاق

"کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہواسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھاہے اس میں سے(حسب توفیق) دے۔اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔

اس لیے بیوی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مطالبات میں کثرت کرکے ا پنے خاوند کے معاملات میں مشکلات اور دشواری پیدا کرے۔کیونکہ ایسا کرنا حسن معاشرت نہیں۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آ پ بیوی کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے معقول مطالبات مان لیں اور بیوی کو بغیر احسان جتلائے اور بغیر تکلیف دیے یہ یاد دہانی کرائیں کہ آپ نے اس کے کتنے مطالبات پورے کیے ہیں جب طاقت تھی تو انہیں کتنی جلدی پورے کردیا کرتا تھا اور بیوی کو اس پرراضی کریں کہ جب طاقت ہوگی تو پھر ایسا ہی ہوگا لیکن ابھی فوری طور پر مزید مطالبات سے رک جائے۔

اسی طرح اس سے برے نرم لہجے  میں بغیر کسی لڑائی  اور  غصہ کے گفتگو کریں اور اسے سمجھائیں کہ جو کچھ وہ مانگ رہی ہے وہ باقی خرچہ پر اثر انداز ہوگا مثلاً گھر کے کرایہ وغیرہ پر اگر وہ نہیں مانگے گی تو یہ سب خرچے آسان ہو  جائیں گے۔اس طرح کی بات کرکے ممکن ہے آپ اسے کچھ مطالبات میں کمی کرنے پر راضی کرسکیں۔آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ مالی کمی اس وقت جاتی رہتی ہے۔جب کوئی ا چھی بات اور اچھے وعدے کرلیے جائیں ،حسن خلق اور اچھا معاملہ اس تنگی کو جس میں آپ مبتلا ہیں ختم کردے گا اس لیے آپ صبر وتحمل اور اچھے انداز سے معاملات کو چلائیں اور اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو نصیحت کرتے رہیں۔

اگر اس کے  باوجود بھی زندگی میں تنگی ہو اور آپ دونوں کے درمیان حالت اس حد تک پہنچ جائے کہ آپ دونوں کسی صورت بھی اکھٹے نہ رہ سکتے ہوں تو پھر ایسی حالت میں طلاق مشروع ہے او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی حالت  میں طلاق ہی دونوں فریقوں کے لیے بہتر ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"اور اگر وہ دونوں علیحدہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور جاننے والاہے۔"(النساء:130) (شیخ محمد المنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص493

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ