سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(287) اگر عورت سسرال والوں کے ساتھ نہ رہنا چاہتی ہو؟

  • 15836
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-04
  • مشاہدات : 615

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں سات برس سے خاوند کے گھروالوں کے ساتھ رہ رہی ہوں مگر اپنے سسر کے ساتھ موافقت نہیں کرسکی۔ جس بناپر میں نے خاوند سے مطالبہ کیا ہے کہ ہم اس فلیٹ سے کہیں اور منتقل ہو جائیں اسے یہ بات بہت ناگوارگزرتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں اپنے والدین کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن حالت یہ ہے کہ میں بھی ساس سسر اور دیور کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تو کیا میرا یہ مطالبہ گناہ ہے؟ اور اسلام اس معاملے میں کیا کہتا ہے مجھے جتنی جلدی ہو سکے جواب ارسال کریں میں برادشت نہیں کر سکتی اور یہ چاہتی ہوں کہ خاوند میرے ساتھ ایک سعادت کی زندگی گزارے ۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے خاوند کے غیر محرم رشتہ داروں کو بیوی کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ۔

"عورتوں کے پاس جانے سےبچو ۔ایک انصاری شخص کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  !آپ ذراخاوند کے عزیز و اقارب کے بارے میں تو بتائیں ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا خاوند کے عزیز و اقارب تو موت ہیں۔"( مسلم 2172۔کتاب السلام باب تحریم الخلوۃ بالاجنیۃوالدخول علیہابخاری 5232۔کتاب النکاح باب لایخلون رجل   بامراۃ الاذو محرم ترمذی 1171 کتاب الرضاع باب ماجاء فی کراھیہ الدخول علی المغیات احمد 17352۔ابن حبان 5588طبرانی کبیر 762/17۔ شرح السنۃ للبغوی 2252۔بیہقی 90/7)

لہٰذا کسی بھی دیورکے ساتھ خلوت جائز نہیں ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے چھوٹے ہوں جن سے کوئی خطرہ نہ ہو۔دوسری بات یہ ہے کہ خاوند پر واجب ہے کہ وہ بیوی کے لیے ایسی رہائش مہیا کرے جو اسے لوگوں کی آنکھوں بارش اور گرمی و سردی وغیرہ سے بچائے اور وہ اس میں مستقل طریقے سے رہے یہ بھی یاد رہے کہ اگر عقد نکاح کے وقت بیوی نے اس سے بڑی رہائش کی شرط رکھی تو اسے پورا کرنا ضروری ہو گا اور خاوند کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ اپنی بیوی پر اپنے کسی دیور کے ساتھ مل کر کھا نا لازم کرے۔خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے حسب استطاعت رہائش تیار کرے جو عرف و معاشرے کی عادات اور معیار کے مطابق ہو۔

حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہےکہ:

خاوند ضروری ہے کہ استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کو رہائش دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے"تم انہیں اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم خودرہے ہو۔"(الطلاق:6)

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ:

خاوند پر بیوی کے لیے رہائش کا انتظام کرنا واجب ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے "تم انہیں اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم خود رہتے ہو۔"(الطلاق:6)

جب مطلقہ (رجعیہ) کے لیے رہائش ثابت ہے تو جو نکاح میں ہے اس کے لیے تو بالا ولیٰ واجب ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

"اوران کے ساتھ طریقے کے ساتھ بودو باش میں ہی رکھا جائے گا اور لوگوں کی نظروں سے اسے چھپانے کے لیے بھی رہائش ہی ضروری ہے پھر مال و متاع کی حفاظت اور عورت کے ساتھ تعلقات کے لیے بھی رہائش کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔( مزید دیکھئے المغنی لابن قدامہ 237/9)

کاسانی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں۔

اور اگر خاوند اپنی بیوی کو اس کی سوکن کے ساتھ رکھنا چاہے یا پھر اپنے کسی رشتہ دار مثلاًوالدہ بہن یا دوسری بیوی کی بیٹی یا کسی اور رشتہ دار کے ساتھ مگر بیوی ان کے ساتھ رہنے سے انکار کردے تو خاوند پر ضروری ہے کہ اسے علیحدہ گھر میں رکھے ۔ اور اگر وہ کسی بڑے سے گھرمیں اسے ان کے ساتھ رکھے کہ جس میں ہر چیز کا بالکل علیحدہ انتظام ہو تو پھر وہ علیحدہ مکان کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔( دیکھئے بدائع الصنائع 23/4)

اس بنا پر خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ آپ کو گھر کے کسی ایسے لگ کمرے میں رہائش دے جہاں پر نہ تو کسی فتنے ڈر ہواور نہ ہی بالغ مردوں کے ساتھ خلوت کا خدشہ ہو۔ البتہ خاوند کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ آپ کو گھر کے باقی افراد کے کام کرنے پر بھی مجبور کرے یا اس پر مجبو رکرے کہ آپ ان کے ساتھ کھائیں یا پئیں ۔

اور اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو آپ کے لیے علیحدہ گھر کا بندو بست کرے اسی میں خیر ہے لیکن آپ کی ساس اور سسر بوڑھے ہیں اور اپنے بیٹے کے محتاج ہیں اور ان کی خدمت کرنے والا اس کے علاوہ اور کوئی نہیں اور ان کی خدمت وہیں رہ کر کی جاسکتی ہے تو پھر اس پر واجب ہے کہ وہ وہیں رہے آخر میں ہم اپنی مسلمان بہن سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ صبر کریں اور اپنے خاوند کو راضی کرنے والے اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس کے والدین کی خدمت میں حتی الوسع تعاون کریں حتی کہ اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرمادے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔(آمین یا رب العالمین )(شیخ محمد المنجد )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص362

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ