سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(149) منگیتر کو دیکھنے کی حد

  • 15667
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-20
  • مشاہدات : 1527

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث پڑھی جس میں ہے کہ شادی کرنے کی نیت سے لڑکی کو دیکھنا جائز ہے میرا سوال یہ ہے کہ منگیتر کو دیکھنے کی کیا حد ہے کیا مرد کے لیے اس کے بال یا مکمل سر دیکھنا جائز ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ نے اجنبی عورت کو دیکھنے سے منع کیا ہے تاکہ نفس کی طہارت اور عزت برقرار رہے لیکن بعض حالات میں سخت ضرورت کے تحت شریعت نے اجنبی عورت کو دیکھنے کی اجازت دی ہے جس میں منگنی کرنے والے مرد کا اپنی منگیتر کو دیکھنا بھی شامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی مرد اور عورت کی زندگی کا ایک نہایت اہم فیصلہ شادی کی صورت میں ہو تا ہے منگیتر کو دیکھنے کے دلائل ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔

1۔حضرت جابر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے کہ:

"عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ ). قَالَ : فَخَطَبْتُ جَارِيَةً فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا وَتَزَوُّجِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا"

"تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے اگر ممکن ہو تو اس سے وہ دیکھ لے جو اس کے لیے نکاح کا باعث ہو۔ پھر میں نے ایک لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا میں اسے چھپ کر دیکھا کرتا تھا حتی کہ میں نے اس کے ان اعضاء کو دیکھ ہی لیا جو اس سے نکاح کے لیے باعث رغبت تھے تو میں نے اس سے نکاح کر لیا۔"( حسن صحیح ابو داؤد 1832کتاب النکاح باب فی الرجال بنظر الی المراۃ احمد 334/3ابو داؤد 2082۔شرح معانی الاثار 14/3۔حاکم 165/2۔معروفہ السنن والاثار للبیہقی 224/5۔کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ :

"عن أبي هريرة قال : " كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فأتاه رجل فأخبره أنه تزوج امرأة من الأنصار ، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( أنظرت إليها ؟ ) قال : لا ، قال : ( فاذهب فانظر إليها فإن في أعين الأنصار شيئاً ) رواه مسلم رقم 1424 والدار قطني 3/253(34))"

"میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ کویہ خبر دی کہ اس نے ایک انصاری عورت سے شادی (کاارداہ ) کیا ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تونے اسے دیکھا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاجاؤ اور اسے دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کوئی (بیماری) ہوتی ہے۔( مسلم 1424۔کتاب النکاح باب ندب النظر الی وجہ المراۃ وکفیھا لمن یرید تزوجہانسائی 69/6کتاب النکاح باب اباحۃ النظر قبل الترویج شرح معانی الاثار 1403۔ کتاب النکاح المراۃ ھل یحل لہ النظر الیھا دارقطنی 253/3۔ کتاب النکاح باب المھربیہقی 84/8۔ کتاب النکاح باب النظر الرجل الی المراۃ یرید ان یتروجہا احمد 286/2)

3۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ:

"میں نے عہد رسالت میں ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھ سے دریافت کیا کہ تو نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرمایا اسے دیکھ لو اس طرح زیادہ تو قع ہے کہ تم میں الفت پیدا ہو جائے ۔"( صحیح صحیح ابن ماجہ 1511۔ کتاب النکاح باب النظر الی امراۃ اذا ارادان یتروجہا ابن ماجہ 1865۔احمد 244/4۔دارمی 134/2 کتاب النکاح باب الرخصۃ فی النظر للمراۃ عند الخطبۃ ترمذی 1087۔ کتاب النکاح باب ماجاء فی النظر الی المخطوبہ نسائی 14/3۔ کتاب النکاح باب اباحۃ النظر قبل الترویج عبد الرزاق 1335۔دارقطنی 252/3۔ابن الجارود 675۔شرح معانی الاثار14/3شرح السنۃ 14/5)

4۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ۔

"ایک عورت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ راوی نے بیان کیا پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر آپ نے اپنی نظر کو نیچا کیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔

اس کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو میرا ان سے نکاح کر دیجئے ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت فرمایا کہ تمھارے پاس (حق مہر کی ادائیگی کے لیے) کچھ ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  !آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمھیں کوئی چیز مل جائے۔وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم !میں نے کچھ نہیں پا یا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تلاش کرو اگر لو ہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تولے آؤ ۔ اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے البتہ میرے پاس یہ تہبند ہے۔ انہیں (یعنی اس عورت کو) اس میں سے آدھا دے دیجئے ۔راوی نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ یہ تمھارے اس تہبند کا کیا کرے گی۔اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے گی۔تو تمھارے لیے کچھ نہیں رہے گا اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔

کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جارہے ہیں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت فرمایا کہ تمھیں قرآن مجید کتنا یاد ہے ؟

انھوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں انھوں نے گن کر بتائیں ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟انھوں نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا پھر جاؤ میں نے ان سورتوں کے بدلےجو تمھیں یادہیں انہیں تمھارے نکاح میں دیا۔"( بخاری 5130۔5087۔ کتاب النکاح باب تزویج المعسر مسلم 1425۔احمد 330/5۔ابو داؤد 2111ترمذی 1114۔ نسائی 113/6۔ابن ماجہ 1889۔عبدالرزاق 7592۔حمیدی 928۔ابن الجارود716۔ابن حبان 4093۔طحاوی 16/3بیہقی 144/7)

منگیتر کو دیکھنے کی حد کے متعلق اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں جب مرد کسی عورت سے شادی کرنا چاہے تو اس کے لیے عورت کو بغیر اوڑھنی کے دیکھنا جائز نہیں ہاں اس سر ڈھانپا ہوا ہو تو اس کا چہرہ اور اس کے ہاتھ اس کی اجازت کے ساتھ اور اس کی اجازت کے بغیر بھی (مراد ہے چھپ کر) دیکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"اور (مومن عورتیں ) اپنی زیب و زینت کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے۔"

امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ "جو ظاہر ہے" سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہیں۔( الحاوی الکبیر34/9)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں جب کسی لڑکی سے نکاح کی رغبت ہو تو اسے دیکھنا مستحب ہے تاکہ بعد میں ندامت نہ اٹھانی پڑھے اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ دیکھنا مستحب نہیں بلکہ صرف جائز ہے اور احادیث کی روشنی میں پہلی بات ہی صحیح ہے دیکھنے میں تکرار اس کی اجازت کے ساتھ اور بغیر اجازت کے دونوں طرح ہی جائز ہے۔ اگر دیکھنا ممکن نہ ہو سکے۔تو کسی عورت کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجے جو اسے اچھی طرح دیکھ کر اس کی صفات مرد کے سامنےرکھے اور عورت بھی جب شادی کرنا چاہے تو مرد کو دیکھ سکتی ہے اس لیے کہ جس طرح مرد کی پسند ہے اسی طرح عورت کی بھی پسند ہے مرد عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دونوں اطراف سے دیکھ سکتا ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھ سکتا۔( روضہ الطالبین وعمدۃ المفتین 1907۔20)

امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے دونوں پاؤں ہتھیلیاں اور چہرہ دیکھنے کی اجازت دی ہے۔( بدایہ المجتہد10/3)

امام ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ چہرہ ہتھیلیاں اور قدم دیکھنے مباح ہیں اس سے تجاوز کرنا صحیح نہیں ۔( حاشیہ ابن عابدین 325/5)

امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  سے مختلف روایات ہیں ایک یہ ہے۔ کہ صرف چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھ سکتا ہے اور دوسری یہ ہے کہ صرف چہرہ ہتھیلیاں اور بازو دیکھ سکتا ہے۔

اسی طرح امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ  سے بھی مختلف روایات مروی ہیں ایک روایت یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ سکتا ہے اور دوسری یہ ہے کہ عام طور پر جو ظاہر ہو وہ دیکھ سکتا ہے مثلاًگردن پنڈلیاں وغیرہ (واضح رہے کہ کتب حنابلہ میں معتد دروایت دوسری ہے)  (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے المغنیٰ لابن قدامہ 453/7۔تہذیب السنن لابن القیم 25/3فتح الباری لابن حجر 78۔11)

اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ جمہور علمائے کرام کے ہاں منگیتر کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا مباح ہے اس لیے کہ چہرہ خوبصورتی اور جمال پر یا پھر بد صورتی پر لالت کرتا ہے اور ہتھیلیاں عورت کے بدن کے نرم باریک یا موٹا ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔

ابو الفرج مقدسی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ اہل علم کے درمیان چہرہ دیکھنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ چہرہ محاسن کو جمع کرنے والا اور دیکھنے کی جگہ ہے۔

منگیتر سے خلوت اور اسے چھونے کا حکم:۔

امام زیلعی رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے مرد کے لیے اپنی منگیتر کے چہرے اور ہتھیلیوں کو چھونا جائز نہیں اگر چہ شہوت کا خدشہ نہ بھی ہو ایک تو یہ عمل حرام ہے اور پھر اس کی ضرورت بھی نہیں اور "ردالمختار"میں ہے کہ"قاضی "گواہ اور منگیتر کے لیے عورت کو چھونا جائز نہیں خواہ ان سب کو شہوت کا خدشہ نہ بھی ہو کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں۔( ردالمختار علی الدرالمختار ۔23705)

امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں منگیتر سے خلوت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرام ہے اور شریعت میں دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی وارد نہیں اس لیے یہ عمل اپنی تحریم پر باقی رہے گا اور یہ ممانعت اس لیے بھی ہے کہ خلوت کی وجہ سے حرام کا م میں پڑنے کا خدشہ ہے جبکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ۔

"کوئی بھی مرد کسی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوگا۔"( صحیح : صحیح الجامع الصغیر 2546۔ترمذی 2165۔کتاب الفتن۔باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ 1171۔کتاب الرضاع باب ماجاء کراھیہ الدخول المغیات المشکاۃ 3118السلسلۃ الصحیحہ 430۔)

اسی طرح منگیتر کی طرف لذت اور شہوت کی نظر سے نہ دیکھے ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک روایت میں کہا ہے اس کا چہرہ دیکھے لیکن اس میں بھی لذت کی نظر نہیں ہو نی چاہیے ۔

مرد کے لیے بار بار نظر اٹھا کر دیکھنا جائز ہے تاکہ اس کے محاسن میں غور کر سکے کیونکہ اس کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہو تا۔

مزید برآں منگنی کرنے والے مرد کے لیے منگیتر کو اس کی اجازت کے بغیر بھی دیکھنا جائز ہے احادیث صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں جمہورعلمائے کرام کا کہنا ہے کہ منگیتر کو دیکھنا چاہے تو اسے کیااجازت کے بغیر دیکھ سکتا ہے۔( فتح الباری 157/9)

علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی ہے۔( السلسلہ الصحیحہ156/1)

فائدہ:۔

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ  ایک دوسری جگہ رقمطرازہیں کہ :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عورت سے شادی کرنا چاہی تو ایک عورت کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا اور اسے کہا اس کے اگلے دانت سونگنا اور اس کی ایڑیوں کے اوپر والے حصے کو دیکھنا  اس حدیث کو امام حاکم  رحمۃ اللہ علیہ  نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہنے کے بعد کہا ہے کہ یہ مسلم کی شرط پر ہے اور  امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس کی موافقت کی ہے۔( السلسلہ الصحیحۃ 157/1۔مستدرک حاکم 166/2۔بیہقی 87/7۔ مجمع الزوائد 507/4)

مغنی المحتاج میں ہے۔

اس حدیث سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عورت کو بھجنے سے وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو خود دیکھنے سے حاصل نہیں ہو سکتے ۔جو خود دیکھنے سے حاصل نہیں ہوسکتے ۔(شیخ محمد المنجد ) معنی المحتاج 128/3)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص213

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ