سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(141) والد کا اپنی بیٹی یا بیٹے سے اس کی منگنی کے متعلق مشورہ

  • 15659
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-20
  • مشاہدات : 806

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا یہ جائز ہے کہ باپ بلا واسطہ اپنے بیٹے یا بیٹی سے ان کے لیے اپنی منتخب کردہ لڑکی یا لڑکے کے متعلق مشورہ کرے(کہ کیا وہ اس سے شادی پر راضی ہے)؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں باپ کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے اس کے لیے اپنی منتخب کردہ لڑکی اور اپنی بیٹی سے اس کے لیے اپنے منتخب کردہ لڑکے کے متعلق بات چیت کرے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے بارے میں مشورہ کرے کیونکہ اسی میں مصلحت ہے اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص205

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ