سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(120) رشتہ دار قیدی کے گھر والوں کی خبر گیری اور اس کی بیوی کے ساتھ خلوت

  • 15638
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-20
  • مشاہدات : 478

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا ایک قریبی جیل میں ہے اور میں اس کی گھر یلو ضروریات کا خیال  رکھتا ہوں جس  میں بچوں کی تعلیم اور گھر کے لیے ضروری اشیاء کی خریداری اور اس کےگھر والوں کو وعظ ونصیحت کرنے کے لیے کسی محرم کے بغیر ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں لیکن اس میں ہرقسم کا احترام،قدر اور اخوت فی اللہ کا دھیان رکھتا ہوں۔

اس کی بیوی مجھ سے چہرےاور ہاتھ کا پردہ نہیں کرتی میں یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہوں کہ عورت کے خاندان سے اس کے محرم رشتہ دار اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے حالات کی خبر لیتے ہیں میں اس سلسلے میں شرعی اعتبار سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں جو کچھ کررہا ہوں وہ حلال ہے یا حرام؟آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ میں یہ سب کچھ فی سبیل اللہ اور اپنے قریبی سے تعلقات کی بنا پر کررہا ہوں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ جو کچھ اپنے قریبی کی فیملی کے ساتھ اس کی غیر حاضری میں کررہے ہیں وہ ایک نہایت مستحسن عمل اور نیکی کا کام ہے۔جس پر آپ تحسین  وآفرین کے سزاوار ہیں اس لیے کہ کمزور وناتواں لوگوں کی ضروریات  پوری کرنا اعمال صالحہ میں شامل ہوتا ہے۔

لیکن آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ اس کی بیوی کے ساتھ تنہائی اختیار کریں کیونکہ وہ آپ کے لیے اجنبی ہے اور نہ ہی اس عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ آپ سے  پردہ نہ کرے کیونکہ آپ اس کے محرم نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی  توفیق بخشنے والا ہے۔(سعودی  فتویٰ کمیٹی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص180

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ