سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(69)کافر لڑکی سے بار بار زنا ،پھر اس کے قبول اسلام پر اس سے شادی کا حکم

  • 15571
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-18
  • مشاہدات : 1151

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں مسلمان ہوں اور تقریباً پانچ برس سے یورپ میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں دوران تعلیم میری ایک بد کار لڑکی سے ملاقات ہوئی اور دوبرس تک ہماری محبت چلتی رہی۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس سے میں کئی بارزنا کا مرتکب ہوا ہوں۔اب کچھ ماہ قبل اس لڑکی نے اسلام قبول کر لیا ہے میری خواہش ہے کہ میں اس سے شرعی طریقہ پر شادی کر لوں۔تو کیا اس میری شادی جائز ہے اور کیا اس کے لیے کوئی خاص امور پر عمل کرنا ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

﴿وَلا تَقرَبُوا الزِّنىٰ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ﴿٣٢﴾...الإسراء

"زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ وہ بڑی بے حیائی اور بہت ہی بری راہ ہے۔"[1]

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمارہے ہیں بلکہ اس کے اسباب کے بھی قریب جانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:"اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو کیونکہ یہ بڑی بے حیائی اور فحش کام ہے۔" یعنی بہت ہی بڑا اور عظیم گنا ہ ہے ۔"اور بہت ہی بری راہ ہے۔" یعنی یہ طریقہ اور راستہ بہت ہی برا ہے۔

مسند احمد میں ایک روایت ہے کہ حضرت ابو امامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں ایک نوجوان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے ۔صحابہ کرام   رضوان اللہ عنھم اجمعین   نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ یہ سوال نہ کرو۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ۔میرے قریب آجاؤ تو وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے قریب ہو گیا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ۔ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ۔ پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا۔

کیا تو اپنی ماں کے لیے زنا پسند کرے گا(کہ کوئی اس کے ساتھ زنا کرے) وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہو سکتا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ، لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے ۔

پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا ۔کیا تو اپنی بیٹی کے لیے اسے پسند کرگا۔وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے۔ اللہ کی قسم !ایسا نہیں ہو سکتا ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   فرمایا۔ لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے ۔

پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا۔ کیا تو اپنی بہن کے لیے اسے پسند کرے گا؟وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا۔ لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔

پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ۔کیا تواپنی پھوپھی کے لیے اسے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فداکردے ۔اللہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ۔کیا تو اپنی خالہ کے لیے اسے پسند کرے گا؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا لوگ بھی اپنی خالاؤں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے ۔

حضرت ابو امامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ    بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور دعا کی کہ اے اللہ !اس کے گناہ معاف کردے اور اس کے دل کو پاک صاف کردے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرمااسے عفت و عصمت والا بنادے۔

ابو امامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ    بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد وہ نوجوان اس کی طرف متوجہ  بھی نہیں ہوا۔ [2]

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا ہے۔

"اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور جسے اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کیا ہو اسے حق کے سوا قتل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو بھی یہ کام کرے گاوہ اپنے اوپر سخت قسم کاوبال لائے گا اسے روز قیامت دو گناعذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور اعمال صالحہ بجالائیں ۔ ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے تو وہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے۔"[3]

زانی شخص زانیہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتا لیکن جب وہ دونوں اپنے اس فعل سے توبہ کر لیں تو پھر ان کا آپ س میں نکاح ہو سکتا ہے کیونکہ توبہ کی وجہ سے وہ زانی نہیں رہتے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد  ہے کہ :

"زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتا اور زانیہ عورت بھی زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتی اور یہ ایمان والوں پر حرام کردیا گیا ہے۔"[4]

اس لیے آپ کو اپنے اس فعل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرنی چاہیے اور اس کبیر گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ توبہ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ بجالائیں۔ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف کر  دے۔ تو جب آپ سچی توبہ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے تو اس کے بعد اس عورت سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ ہر توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد)


[1] ۔(الاسراء:32)

[2] ۔(مسند احمد (21708)

[3] ۔الفرقان۔( 71۔68)

[4] ۔(النور:3)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 126

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ