سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(27)کیا جس عورت سے تعلقات ہوں اسی سے نکاح کرنا ضروری ہے؟

  • 15480
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 672

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں انتہائی مشکل حالات میں ہوں، مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے کہ میں نے اپنی ایک رشتہ دار کنواری لڑکی سے بوس وکنار اور اس نے بھی مجھ سے یہی کچھ کیا  لیکن ہم اس سے آگے نہیں بڑھے۔ مجھے اس بات کا  خوف ہے کہ وہ کہیں دوسروں کو نہ بتا دے کیونکہ وہ  میری خالہ زاد ہے۔ میں نے اپنی زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق بسر کرنی شروع کر دی ہے جس وجہ سے لوگ بھی میرا احترام کرتے ہیں۔

میں ابھی تک غیر شادی شدہ ہوں اور  عنقریب ایک نیک وصالحہ لڑکی سے شادی کرنے والا ہوں، تو کیا مجھے اسی عورت سے شادی کرنی چاہیے جس سے میرے تعلقات تھے۔ مجھے اس سے بہت خوف معلوم ہوتا ہے اور وہ  میرے خاندان کے ساتھ ہی رہتی ہے، مجھے اس مشکل سے نکلنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے معلوم ہے کہ میں نے معصیت کا ارتکاب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بھی دعا مانگتا ہوں کہ وہ میرے گناہ معاف فرمائے۔ میں اس عورت سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ہر وقت مجھے پھانسنے کی حیلے تلاش کرتی رہتی ہے اور اب میں  پریشانی میں ہوں، کیا مجھے اپنے والدین کو اس بارے میں بتا دینا چاہیے؟ اور کیا مجھے اس واقعہ کے بارے میں اس لڑکی کو بتا دینا چاہیے جس سے میں شادی کرنے والا ہوں؟ اور کیا جس سے میرے تعلقات تھے وہ مجھے شریعت اسلامیہ کی رو سے اپنے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ پر ضروری ہے کہ جو کچھ آپ سے ہو چکا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کریں اور یہ عزم کریں کہ آئندہ ایسا کام نہیں کریں گے۔ اس لڑکی سے بوس وکنار  یا اسے چھونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ اسی لڑکی سے ہی شادی کریں اور نہ ہی شریعت اسلامیہ میں کوئی ایسی دلیل موجود ہے کہ وہ آپ کو اپنے ساتھ شادی  پر مجبور کرے جسے نہ تو آپ چاہتے ہیں اور نہ ہی اس سے شادی کی رغبت رکھتے ہیں۔

اور شادی بھی اس وقت صحیح ہوتی ہے جب اس میں تو سب شروط صحیح طور پر پائی جائیں اور اس میں ایک شرط خاوند کی رضامندی بھی ہے۔

اور نہ ہی آپ پر یہ لازم ہے کہ آپ اپنے والدین یا جس لڑکی سے شادی کر رہے ہوں اسے اس واقعہ کے  متعلق بتائیں۔ بلکہ آپ کو یہ حکم ہے کہ اپنے آپ پر پردہ ڈالیں اور اس (گناہ) سے توبہ کریں جو آپ اور آپ کے رب کے درمیان ہے۔ اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا مندرجہ ذیل فرمان ہے:

’’اس گندے کام سے بچو جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور جو کوئی اس کا ارتکاب کر بیٹھے اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ پردہ کے ساتھ پردہ پوشی کرنی چاہیے۔‘‘(صحیح: السلسلةالصحیحة: 663)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 68

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ