سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(25)میاں بیوی کی راز کی باتوں کا اظہار کرنا اور طلاق کی نیت سے نکاح کرنا

  • 15475
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 1127

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے کئی برس قبل ایک شخص سے شادی کی اور شادی سے قبل بھی میرے اس سے تعلقات تھے لیکن پھر ہم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی توبہ کر لی۔ اس نے دو مرتبہ دوسری شادی کی ہے اور دونوں مرتبہ ہی اس کی شادی صرف شہوت پوری کرنے کی غرض سے ہی تھی۔ مشکل یہ ہے کہ وہ پچھلے راز افشاں کرتا ہے (اور مجھے یہ علم ہے کہ  مسلمان پر پچھلے راز افشاں کرنا حرام ہے)۔

اس شخص نے اسلام سے قبل بھی کئی ایک بار شاد کی اور اب وہ اپنے اس فعل کے لیے اسلام کو دلیل بناتا ہے  کہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں۔ وہ مجھے تو یہ کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہے لیکن میرا اعتقاد یہ ہے کہ وہ جیسا سلوک اپنی دوسری بیوی سے کرتا ہے مجھ سے نہیں کرتا اور وہ مجھے اپنی دوسری بیوی کے بارے میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو میں نہیں سننا چاہتی۔ یاد رہے کہ دونوں شادیاں خفیہ اور مشتبہ طریقے سے انجام پائی ہیں، اس نے ایک بار کہا کہ وہ ایک دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکن وہ صرف تبدیلی کے لیے  کچھ مدت تک شادی کرتا ہے تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ شادی کرے اور جب چاہے طلاق دے ڈالے؟

ہماری کوئی اولاد نہیں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اس سے طلاق حاصل کر لوں کیونکہ اس حالت میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور پھر مجھے اپنے خاوند  کی محبت اور اس کی رغبت بھی نصیب نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند اور بیوی پر یہ واجب اور ضروری ہے کہ وہ اپنے راز وں کی حفاظت کریں اور خاص کر ایسے راز جو جماع وہم بستری اور ایک دوسرے سے خصوصی تعلق کے ہوتے ہیں۔ بیوی اپنے خاوند کے رازوں کی  امین ہے اور اسی طرح خاوند اپنی بیوی کے رازوں پر امین ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مردوں کے پاس آئے اور  کہنے لگے، کیا تم میں کوئی ایسا  آدمی ہے جو اپنی بیوی  کے پاس جائے اور دروازہ بند کر کے اپنے اوپر پردہ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے پردہ کے  ساتھ وہ بھی پردہ میں رہے؟ تو صحابہ کرام کہنے لگے، جی ہاں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: پھر وہ کسی کے پاس بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے (اپنی بیوی کے ساتھ رات کو)  اس طرح کیا اور اس طرح کیا؟ ابو ہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر سب صحابہ کرام خاموش ہو گئے۔

پھر  نبی کریم ﷺ عورتوں کے پاس  گئے اور فرمانے لگے، کیا تم میں بھی کوئی ایسی ہے جو یہ باتیں کرتی ہے (یعنی مباشرت وہم بستری کے راز افشاں کرتی ہے)؟ تو سب عورتیں خاموش رہیں۔ ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے پر بیٹھی اور اونچی ہوئی تاکہ نبی کریم ﷺ اسے دیکھ سکیں اور اس کی بات کو سن سکیں۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔

تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ اس کی مثال کیا ہے؟ پھر آپ ﷺ نے (خود ہی) فرمایا: اس کی مثال اس شیطانی کی ہے جو شیطان سے کسی گلی اور راستے میں ملوں اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے اپنی حاجت پوری کر کے (یعنی ہم بستری کر کے) چلتی  بنے۔

(صحیح: صحیح الجامع الصغیر: 7037؛ سنن ابي داؤد: 2174؛ کتاب النکاح، با ب ما یکرہ من ذکر الرجل ما یکون من اصابتہ اہلہ)

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے خاوند کا تبدیلی کی غرض سے شادی کرنا جیسا کہ آپ کہتی ہیں کہ وہ طلاق کی نیت سے شادی کرتا ہے جو کہ عورت اور اس کے اولیاء سے دھوکہ اور فراڈ ہے۔ شیخ محمد رشید رضا رحمہ الله کا کہنا ہے کہ

علمائے سلف وخلف کی متعہ کی ممانعت کے بارے میں جو سختی ہے اور اس کی متقاضی ہے کہ طلاق کی نیت سے نکاح بھی ممنوع ہو، اگرچہ فقہائے کرام کا یہ کہنا ہے کہ جب عقدِ نکاح میں کسی شخص نے وقت معین کی نیت کی اور اسے عقد کے صیغہ میں مشروط نہ رکھا تو اس کا نکاح تو صحیح ہو گا لیکن یہ دھوکہ اور فراڈ شمار ہو گا۔ جو کہ اس عقدِ نکاح سے زیادہ باطل ہونے کے لائق ہے جس میں خاوند، بیوی اور اس کی اولیاء کی رضا مندی سے وقت کی تعیین ہوتی ہے اور  اس میں اور کوئی فساد والی چیز تو نہیں صرف یہ ہے کہ اس عظیم بشری رابطے سے کھیلنا ہے جو کہ انسانوں کے درمیان باہم ربط وتعلق کی بنیاد ہے اور اس میں شہوات کے پیچھے چلنے والی عورتوں اور مردوں  کو اپنی شہوات پوری کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اور اس پر جو کچھ منکرات مترتب ہوتی ہیں۔

اور وہ نکاح جس میں یہ شرط (تعیین وقت) نہ ہو وہ دھوکہ اور فراڈ پر مبنی ہو گا، اس کی بنا پر اور بھی کئی قسم کے فساد ومنکرات مرتب ہوں گے، جن میں عداوت ودشمنی، بغض وکینہ اور حسد اور ان سچے لوگوں سے سچائی کا خاتمہ کہ جو  حقیقت میں شادی کرنا چاہتے ہیں اور ان پر عدم اعتماد وغیرہ۔

(دیکھیے: فقہ السنہ از سید سابق: 2؍39)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ الله کی بھی اس شادی کی تحریم کے بارے میں اسی طرح کی کلام ہے، ان کا کہنا ہے کہ

پھر یہ قول (یعنی جواز والا قول) ایسا ہے کہ جس سے کمزور ایمان والے لوگ اپنی غلط اور خراب قسم کی اغراض  پوری کرنے کا موقع پائیں گے جیسا کہ ہم نے سنا ہے کہ کچھ لوگ سالانہ چھٹیوں میں دوسرے ممالک میں صرف جاتے ہی اس نیت سے ہیں کہ وہ طلاق کی نیت سے شادی کریں۔

اور مجھے تو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض تو ان چھٹیوں میں ہی کئی ایک شادیاں کرتے ہیں، گویا وہ اپنی شہوت پوری  کرنے ہی گئے تھے جو کہ ممکن ہے زنا کے مشابہ ہو، اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔ تو اس لیے ہماری رائے یہ ہے کہ یہ اس لائق نہیں کہ اس کا دروازہ کھول دیا جائے اس لیے کہ یہ جو کچھ  میں نے ذکر کیا ہے اس کا ذریعہ بن چکا ہے۔

اس نکاح کے بارے میں میری اپنی رائے یہ ہے کہ عقد نکاح تو صحیح ہے لیکن اس میں دھوکہ اور فراڈ ہے، تو اس اعتبار سے یہ حرام ہو گا۔ اس میں دھوکہ اور فراڈ یہ ہے کہ اگر عورت اور اس کے والی کو خاوند کی نیت کا علم ہو جائے کہ اس کی صرف نیت یہ ہے کہ وہ اس سے کھیل کر اسے طلاق دے دے گا تو وہ کبھی بھی اس سے شادی نہ کریں گے، تو اس طرح یہ ان کے لیے دھوکہ اور فراڈ ہو گا اور اگر وہ انہیں بتاتا ہے کہ وہ جتنی دیر اس ملک میں  رہے گا وہ اس کے ساتھ رہے اور وہ لوگ اس پر متفق ہو جائیں تو یہ نکاح متعہ ہو گا۔ اس لیے میں تو اسے حرام سمجھتا ہوں لیکن اگر کسی نے ایسی جرأت کی اور یہ کام کر لیا تو اس کا نکاح صحیح ہے مگر وہ گناہ گار ہو گا۔

تیسری بات یہ ہے کہ اس کا خفیہ طریقے سے شادی کرنا۔ اگر تو وہ عورت کے ولی اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرتا ہے تو اس کا نکاح صحیح ہے لیکن اگر یہ نکاح عورت کے ولی کے بغیر ہی ہوا ہے اور یا پھر گواہ نہیں تھے تو یہ نکاح صحیح نہیں۔

آخر میں ہم آپ کے خاوند کو یہ  نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر یعنی بیوی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور لوگوں کی عزت کے بارے میں بھی اسے اللہ  تعالیٰ کا ڈر ہونا چاہیے اور اسے یہ علم ہونا چاہیے کہ اس طرح کا کھیل اور غلط کام اس کے لیے جائز نہیں۔ شادی سکون، رحمت اور محبت ومودت کا نام ہے، اس لیے اسے صرف شہوت پوری کرنے کا ہی ذریعہ نہیں بنا لینا چاہیے اور پھر (شہوت پوری کرنے کے بعد) اس عورت کو حسرت ویاس  کی حالت میں چھوڑ دینا قطعاً روا نہیں۔

ہم آپ کو بھی یہ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ اپنے خاوند کو اس کام سے منع کرنے میں نرمی سے کام لیں اور اپنے گھر کو مستقل طور پر قائم رکھنے کی کوشش کریں اور خاوند کی نیت کے بارے میں جو کچھ آپ نے ذکر کیا ہے، اس کی صحت کے بارے میں تحقیق کریں کہ آیا واقعتاً اور شادی کرنے اور جو کچھ آپ کو اچھا نہیں لگتا اس کے بارے میں  اس کے مقاصد ایسے ہی ہیں یا نہیں۔ آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ کبھی عورت اپنے خاوند میں کسی اور کی شرکت پر غیرت کی وجہ سے کسی چھوٹی بات کو بھی بڑا سمجھنے لگتی ہے اور بعض اوقات اس میں شیطانی وسوسے بھی شامل ہوتے ہیں تاکہ مسلمان گھرانے کو تباہ کر سکے۔

آپ اس معاملے میں مزید سوچ سمجھ لیں اور خاص کر نیت کا مسئلہ جس میں آپ کو علم ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ غیب کی بات ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہیں کہ وہ آپ کو اس معاملے کی  حقیقت دکھائے اور آپ اس کے ساتھ رہنے یا پھر اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارے میں اپنے رب سے استخارہ کر لیں اور آپ یہ بھی غور وفکر کریں کہ اگر آپ کو طلاق ہو جاتی ہے تو اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا انجام کیا ہو گا تاکہ آپ کو علم ہو سکے کہ آپ کے لیے  علیحدگی بہتر ہے یا کہ صبر کرتے ہوئے خاوند کے ساتھ  رہنا اور اگر آپ اسے اپنے بیان کردہ اسباب کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتیں تو آپ اس سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 64

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ