سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(23)ایک پاکدامن مسلمان کا سابقہ بدکاری کی مرتکب سے نکاح کرنا

  • 15471
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 645

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری عمر پچیس برس ہے اور میں نے چھوٹی عمر میں نکاحِ متعہ کیا تھا، مجھے علم ہے کہ اہل سنت متعہ کو حرام سمجھتے ہیں۔ متعہ کرنے کے اسباب  بہت ہیں جن کا ذکر کرنا مشکل ہے، لیکن میرے حالات ہی ایسےبن چکے تھے کہ مجھے ایسا کرنا پڑا اور اب میں اس متعہ کے عظیم گناہ کے متعلق اپنے آپ سے سوال کرتی رہتی ہوں اور جب مطلقاً یہ گناہ ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں اور میری دعا ہے کہ وہ مجھے صحیح راستے کی رہنمائی  فرمائے۔ ہم اس وقت نبی ﷺ کے دور سے بالکل ہی مختلف دور میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اس لیے مجھے بعض اوقات  حلال اور حرام کےدرمیان تمیز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ میں ایک یورپی مسلمان عورت ہوں۔

اب میں ایک ایسے مسلمان نوجوان کو جانتی ہو جس نے پہلے شادی نہیں کی اور وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا  ہے لیکن مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا میرے ساتھ شادی کرنا کوئی اچھا اور افضل نہیں اور نہ ہی اس میں اس کی مصلحت ہے لیکن مجھے اس کا پورا یقین  بھی نہیں کہ واقعی اس کے لیے ایسا ہی ہو۔

اولاً اس لیے کہ ہماری قدریں فی الحال کچھ حد تک مشابہ ہیں، اسی طرح ہم بہت سارے معاملات میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں واقعی حقیقت یہ ہےکہ میں نے ابھی تک کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو معاملات مین اس حد تک میرے ساتھ موافق ہو، لیکن اس کی زندگی مجھ سے کچھ مختلف رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت وفضل سے اسے ان اشیاء سے بچا کر رکھا ہے جن میں میں پڑی ہوئی تھی۔

اس شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے یہ بھی زیادہ میں جو چیز چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ وہ میرے ساتھ شادی کرنے کے فیصلے میں مطمئن ہو اور اسے یہ شعور ہو کہ ایسا کرنا دینی اعتبار سے صحیح ہے یا ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب كوئی رشتہ مناسب اور کفو ہو یعنی جس شخص کا دین اور اس کی امانت پسند ہو تو اس سے آپ کو صرف خدشات اور شکوک وشبہات اور گمان’جن کی کوئی قدروقیمت نہیں اور نہ ہی ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے‘ پر اعتماد کرتے ہوئے شادی میں دیر نہیں کرنی چاہیے اور ایسے خیالات کی طرف متوجہ بھی نہ ہوں۔ بلکہ اگر اس شخص کے اوصاف ایسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے بیان کیے ہیں تو پھر آپ اسے قبول کرتے ہوئے اس سے شادی کر لیں اور اس میں کسی بھی قسم کا تردد نہ کریں۔

اور آپ سے جو  نکاحِ متعہ ہو چکا ہے اس میں تو کوئی شک وشبہ نہیں کہ متعہ کرنا حرام ہے اور یہ (دورِ نبوی میں حلال ہونے کے بعد دورِ نبوی میں ہی) منسوخ ہو چکا ہے اور اب اس طریقہ پر شادی کرنا جائز نہیں۔ جب آپ کو یہ علم ہو چکا ہے تو پھر آپ  اپنے کیے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اس سے توبہ واستغفار کریں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 61

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ