سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(21)ناقص العقل کی شادی کرنے کا حکم

  • 15468
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-17
  • مشاہدات : 656

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا ایک تیس سالہ بھائی ’فہد‘ شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مندرجہ ذیل مشکل  درپیش ہے:

وہ ایک عام قسم کا انسان ہے اور اس کا حافظہ بھی قوی ہے۔ جسم بھی ٹھیک ٹھاک اور صحیح ہے۔ عورت اور مرد  کی پہچان کر سکتا ہے اور جب ہم شادی کے معاملے میں بات چیت کریں تو اسے بھی وہ سمجھتا ہے لیکن اس میں تمیز نہیں کر سکتا۔

دوسرے معنوں میں یہ کہ نہ تو وہ شادی کے معنیٰ میں سمجھتا ہے  اور نہ ہی طلاق اور واجبی حقوق ِ زوجیت میں تمیز کرتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ آیا اس کی شادی کرنا جائز ہے کہ نہیں۔ آپ کے علم میں رہے کہ وہ کہتا ہے میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کی شادی  کرنا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ لڑکی کے ولی اور لڑکی کو اس کے عقلی نقص اور عدم تمیز کے  متعلق بتا دیا جائے اور یہ بھی کہ اسے شادی کے معنیٰ کا علم نہیں، نہ ہی وہ طلاق اور حقوق واجبہ کو سمجھتا ہے اور یہ کہ وہ نماز کی صحیح کیفیت بھی نہیں جانتا، اسی طرح وہ بے کار ہے اور اس کی گواہی کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔

اور نہ ہی اس کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ جس سے وہ یہ سمجھ سکے کہ اسے کیا چیز نفع دے گی اور کیا نقصان اور جب اس کی شادی ہو جائے تو یہ لازمی ہے کہ اس کا بھائی یا پھر والد اس کی نگرانی کرے اور اس کی  ضروریات پوری کرے، اس کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کرے اور اسی طرح شادی کے لوازمات وخرچہ اور مہر کا بھی انتظام کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ نقص ایسا عیب شمار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نکاح رد ہو سکتا ہے،  جب عورت اور اس کے دلی کے سامنے یہ سب کچھ بیان ہو چکا ہو تو ٹھیک (یعنی پھر نکاح درست ہے) کیونکہ  مسلمان پھر اپنے شروط پر قائم رہتے ہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

سلسله فتاوىٰ عرب علماء 4

صفحہ نمبر 58

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ