سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(211) کیا ان عمارتوں کو وقف کرنا جائز ہےجو بینک سے قرض لے کر بنائی گئی ہوں

  • 15406
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-16
  • مشاہدات : 353

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیاان عمارتوں کووقف کرناجائزہےجوبینک عقاری۔۔۔(Land.Mortgage Bank)سےقرض لےکربنائی گئی ہوں اورتاحال اسی بینک کےپاس رہن ہوں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس مسئلہ میں علماءکااختلاف ہےاوریہ اختلاف ایک دوسرےمسئلہ پرمبنی ہےاوروہ یہ ہےکہ کیاقبضہ کےبغیررہن لازم ہوتاہےیانہیں؟جنہوں نےیہ کہاکہ رہن قبضہ ہی سےلازم ہوتاہےتوانہوں نےکہاکہ رہن رکھی ہوئی چیزکاوقف بھی جائزہےاوراس میں دیگرایسےتصرفات بھی جوملکیت کوایک شخص سےدوسرےکےپاس منتقل کردیں کیونکہ رہن کوبھی ابھی تک قبضہ نہیں لیاگیااورجنہوں نےیہ کہاکہ رہن لازم ہوجاتاہےخواہ مرہون کوقبضہ میں نہ بھی لیاگیاہوتوان کےنزدیک اسےوقف کرناصحیح نہیں ہوگااورنہ اس میں کوئی  اور ایساتصرف جائزہوگاجس سےملکیت منتقل ہوجائےتواس سےمعلوم ہواکہ زیادہ احتیاط اسی بات میں ہےکہ اس صورت میں وقف نہ کیاجائےتاوقتیکہ بینک کےواجبات ادانہ کردیئےجائیں،اس سےعلماءکےاختلاف سےبھی بچاجاسکتاہےاوراس حدیث شریف پرعمل بھی کیاجاسکتاہےکہ‘‘مسلمانوں کواپنی شرائط کی پابندی کرنی چاہئے۔’’
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص331

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ