سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(26) مشکل کشا حاجت روا اللہ کے سوا کوئی نہیں

  • 15084
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-06
  • مشاہدات : 1279

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کسی نبی یا ولی یا اور کسی  کو خدا تعالیٰ کے سوا اپنی مشکل  کشائی  اور  حاجت  برادری کے  لیے پکارنا اوراس سے  مدد یں  چاہنا اور مراد دیں مانگنا شریعت  میں کیا حکم رکھتا ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوائے  خدا کے  اور کسی کو  خواہ  نبی ہو یا ولی  مشکل  کے وقت پکارنا اوران سے  مدد چاہنا اور ان سے  امید  نفع  اور ضرر کی رکھنا شرک ہے  اللہ تعالی فرماتا ہے :

﴿وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لا يَخلُقونَ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ ﴿٢٠ أَمو‌ٰتٌ غَيرُ‌ أَحياءٍ وَما يَشعُر‌ونَ أَيّانَ يُبعَثونَ ﴿٢١﴾... سورةالنحل

یعنی اور جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا  کچھ نہیں پیدا کرتے  اور خود آپ پیدا  کئے گئے  مردے ہیں  زندہ نہیں ہیں  ان کو خبر  نہیں کہ کب قبروں سے اٹھائے جائیں  گے ۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ ضُرِ‌بَ مَثَلٌ فَاستَمِعوا لَهُ إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَن يَخلُقوا ذُبابًا وَلَوِ اجتَمَعوا لَهُ وَإِن يَسلُبهُمُ الذُّبابُ شَيـًٔا لا يَستَنقِذوهُ مِنهُ ضَعُفَ الطّالِبُ وَالمَطلوبُ ﴿٧٣ ما قَدَرُ‌وا اللَّهَ حَقَّ قَدرِ‌هِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ﴿٧٤... سورةالحج

یعنی اے لوگو  ایک مثل  کہی جاتی ہے  اس کو سنو ۔ تم  پکارتے  ہو اللہ کے سوا ' سو ہرگز  نہ بناسکیں  ایک مکھی ۔اگر چہ سارے جمع ہوں  اور اگر  کچھ چھین  لے ان سے مکھی  تو چھوڑا نہ سکیں اسے ' دونوں کمزور  ہیں۔مانگنے والا اور جس  سے مانگا لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں سمجھی  جیسی اس کی قدرت ہے ' بیشک اللہ زور آور  زبردست ہے ۔

اور روایت میں ہے حضرت ابن عباس :

 قال كنت  خلف  رسول الله صلي الله عليه وسلم  يوما فقال: يا غلام اخفظ  الله يحفظك  ’احفظ  الله يحذره  تجاهك  واذآ  سالت  فسئل الله ّ واذا استعنت  فاستعن بالله ّ رواه الترمذي

 اور استعانت  ایک قسم کی عبادت ہے ۔پس سوائے خدا کے  کسی سے  نہ چاہیے ۔ تفسیر  معالم  التنزیل  میں  ہے ۔ الاستعاند نوع  تعبد ّ انتهي

اور مجمع البخار میں ہے  ۔

فان  العبادة وطلب  الحوائج  والاستعانة حق الله وحده انتهي
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی

ص161

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ