سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(176)ہبہ کی ہوئی چیز کا مسئلہ

  • 14988
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-04
  • مشاہدات : 573

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کےبارےمیں مرحوم خدابخش کی بیوی مسمات رحمت(عاقلہ بالغہ)نےگواہوں کےسامنے کچھ نقدی رقم لےکرباقی زمین اپنےسسرحاجی موسی کوہبہ کردی ہے۔اس بات کوتقریبا35سال گزرچکےہیں اوریہ زمین آگےحاجی موسی کےورثاء میں بھی تقسیم ہوچکی ہےجبکہ اب مسمات رحمت اس زمین کوواپس لیناچاہتی ہےآپ وضاحت کریں کہ آیارحمت بی بی اپنی اس ہبہ کی  ہوئی زمین کوواپس لےسکتی ہے یانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہوناچاہیےکہ مسمات رحمت ہبہ کی ہوئی زمین دوبارہ واپس نہیں لےسکتی نہ  ہی یہ جائز ہے۔

((عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العائدفى هبته كالكلب يقيئى ثم يعودفي قيئه.)) (متفق عليه)
((عن ابن عمروبن عباس رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم  قال لايحل للرجل أن يعطى العطية ثم يرجع فيهاالاوالدفيمايعطى ولد.)) (رواه احمد)
‘‘کسی مسلمان کے لیے حلال(جائز)نہیں کہ وہ عطیہ (تحفہ،بخشش)دےکردوبارہ اسےواپس لےسوائے والدکے وہ اپنی اولادکوکوئی چیز دےکرواپس لےسکتا ہے۔’’
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 577

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ