سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(165)ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینا

  • 14952
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-03
  • مشاہدات : 721

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ میں کہ جمال خاتون نےاپنی زندگی میں ہی اپنے والدکی وراثت میں سےملےہوئےکل حصہ اپنی خوشی اوررضامندی کے ساتھ اپنے چچازادبھائیوں غلام حسین اورحبیب اللہ کوبطورہبہ اورہبہ کرکےدےدی۔

اب جمال خاتون کی وفات کے بعدجمال خاتون کابیٹااوردوسرے وارث مذکورہ ہبہ کی ہوئی ملکیت واپس لیناچاہتے ہیں۔وضاحت کرین کہ اس ہبہ کی ہوئی ملکیت کوواپس لیناجائزہےیانہیں،شریعت محمدی کے مطابق اس کاحکم کیاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہوناچاہیےکہ ہبہ کی ہوئی ملکیت واپس لینا ناجائز ہےجیساکہ حدیث مبارکہ میں رسول اللہﷺنے فرمایاہے:

((عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العائدفى هبته كالكلب يقيئى ثم يعودفى قيئه.)) صحيح البخارى’كتاب الهبة’الخ’باب نمبر٣٠’مسلم كتاب الهبات’باب نمبر٢’نسائى’كتاب الهبة’بان ذكرالأختلاف على طاوس فى الراجع هبته.رقم الحديث:٣٤٦١.

‘‘ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ ہبہ کی ہوئی  چیزکو لوٹنے والا کتے کی مانند ہے جوقے کرتا ہے اورپھراس کوکھا لیتا ہے۔’’

معلوم ہواکہ مالک کی ہبہ کی ہوئی  ملکیت واپس لیناناجائز ہے اس لیےورثاکے لیے اس ہبہ کی ہوئی ملکیت کوواپس لینابالاولی ناجائز ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 565

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ