سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(161)اگر مرحوم کا بیٹا فوت ہو جائے تو تقسیم وراثت

  • 14948
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-02
  • مشاہدات : 494

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ  کےبارےمیں کہ ایک آدمی نےاپنی ملکیت اپنے بیتے کوہبہ کردی بعدمیں بیٹافوت ہوگیا۔اب اس مرحوم کی ملکیت میں سے باپ کوحصہ ملےگایانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہوناچاہیےکہ اس ہبہ کی ہوئی ملکیت سےوالدکوورثاءکی طرح حصہ ملے گا۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان ہواہے کہ:

((جاءت إمراة إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقالت يارسول الله إنى تصدقت على أمى بجارية وأنهاماتت فقال آجرك وردعليك الميراث.)) سنن ابن ماجه:كتاب الصدقات‘باب من تصدق بصدقة ورثها’رقم:٢٣٩٤.

‘‘ايك عورت نبی کریمﷺکے پاس آئی اورعرض کیا اے اللہ کےرسولﷺمیں نے ایک لونڈی اپنی ماں کوصدقہ کےطورپردی ہے پھرمیری ماں فوت ہوگئی توآپﷺنے فرمایاتجھےتیرےاس صدقےکااجربھی ملےگااورآپ وارث کی حیثیت سےدوبارہ اس لونڈی کواپنی وراثت میں لے سکتیں ہیں۔’’اس لیےاب وہ باندی آپ کی ملکیت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 558

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ