سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(154)شیعہ راوی

  • 14940
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-30
  • مشاہدات : 1097

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا صحیح بخاری میں شیعہ راوی موجودہیں اوریہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا امام نسائی اورامام حاکم رحمہم اللہ بھی شیعہ تھے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا صحیح بخاری میں شیعہ راوی موجودہیں اوریہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا امام نسائی اورامام حاکم رحمہم اللہ بھی شیعہ تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں واقعتاصحیح بخاری میں کچھ شیعہ راوی ہیں لیکن متقدمین کےنزدیک شیعہ اورروافض میں بہت فرق ہے ان کامعاملہ آج کل کےشیعہ حضرات کی طرح نہ تھاکہ ان کے روافض کے مابین کچھ فرق وامتیاز نہیں بلکہ متقدمین کےنزدیک شیعہ سےمرادوہ لوگ تھے جوصرف تفضیل کے قائل تھے یعنی علی رضی اللہ عنہ کوعثمان رضی اللہ عنہ سےافضل جانتےتھے،اگرچہ عثمان رضی اللہ عنہ کوبرحق امام اورصحابی سمجھتے تھےمگراس طرح کے کچھ لوگ اہل سنت میں بھی گذرے ہیں جو علی رضی اللہ عنہ کوعثمان رضی اللہ عنہ سےافضل قراردیتےتھےلہذایہ ایسی بات نہیں جوبہت بڑی قابل اعتراض ہوہاں کچھ شیعہ شیخین ابوبکروعمررضی اللہ عنہما سےعلی رضی اللہ عنہ کوافضل سمجھتےتھےاگرچہ وہ شیخین رضی اللہ عنہماکےمتعلق اس عقیدہ کے حامل بھی تھے کہ وہ برحق امام اورصحابی رضی اللہ عنہم تھےلیکن علی رضی اللہ عنہ کوافضل قراردیتے تھے اوران کی بات زیادہ سےزیادہ بدعت کےزمرہ میں آتی ہےاوراصول حدیث میں مبتدعین کی روایت کودرج ذیل شرائط سےقبول کیاگیا ہے۔

(1)وہ صدوق ہومتہم بالکذب نہ ہو،عادل ہو۔

(2)وہ اپنی بدعت کی طرف داعی نہ ہو۔

(3)اس کی روایت اس کی بدعت کی مئویدنہ ہو۔

باقی روافض وہ تومتقدمین کے نزدیک وہ تھے جوعلی رضی اللہ عنہ اورکچھ دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگرتمام صحابہ کومعاذاللہ بےدین اورغاصب وغیرہ کہتے رہتے ہیں گویاان لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگرکوترک کردیاہےاس طرح کےشخص کی روایت قطعاغیرمقبول ہے۔

شیعیت اوررافضیت کی یہ تحقیق علامہ امیرعلی نے اپنی کتاب تقریب التہذیب کے حاشیہ کےمتصل بعدیعنی تقریب کے ساتھ متصل شامل کردیاہے،اس میں اس کے متعلق دوسرے کئی اصول حدیث کے مسائل اورفن رجال وغیرہ کے متعلق کافی باتیں لکھی ہیں یہ رسالہ قابل دیدولائق مطالعہ ہے۔

الحمدللہ صحیح بخاری میں جوشیعہ راوی ہیں وہ اپنی بدعت کی طرف داعی نہیں اوران کی روایات بدعت کی مئوید بھی نہیں اوروہ فی نفسہ ثقہ وصدوق  ہیں بلکہ کچھ روایات ان سےایسی بھی مروی ہیں جوان کی بدعت خلاف ہیں لہذا ایسے راویوں کی روایت میں کچھ حرج نہیں لہذاامام محدثین بخاری پرکوئی اعتراض واردنہیں ہوتا ۔تفصیل کے لیے اصول حدیث کی کتب کامطالعہ کیاجائے۔

باقی رہا امام نسائی کا معاملہ توان کے متعلق شیعہ ہونے کی بات کہنا بالکل غلط ہے اورامام موصوف پر اتہام ہے۔باقی امام صاحب نے جوکتاب خصائص علی لکھی ہے وہ اس لیے  کہ ان کا کچھ ایسے لوگوں سے واسطہ پڑاتھاجوعلی رضی اللہ عنہ سےبالکل منحرف تھے اوران کے متعلق ناشائستہ لفاظ کہتے تھے،اس لیے اسے جلیل القدرصحابی رضی اللہ عنہ کی مدافعت میں یہ کتاب لکھی اس کتاب میں کچھ احادیث صحیح توکچھ ضعیف بھی مگریہ تومحدثین کرتے آئے ہیں( کہ اپنی کتب صحیح و ضعیف  سب طرح کی احادیث درج کرتے ہیں )دیکھئے ترمذی،ابن ماجہ،ابوداودان سب کتب میں کچھ احادیث صحیح ہیں توکچھ ضعیف۔

امام  حاکم واقعتاشیعیت کی طرف مائل تھےجیساکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں صراحت فرمائی ہےلیکن غالی شیعہ یارافضی نہ تھے بلکہ صرف تفضیل کےقائل تھےاورحضرات شیخین کی بہت زیادہ تعظیم وتکریم کرنے والے تھے اورشیعیت اوررافضیت کافرق میں اوپردرج کرآیا ہوں امام حاکم کامقام حدیث میں بہت بلند ہے ،ان کے ترجمہ کوکتب تاریخ اورتذکرۃ الحفاظ میں دیکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ بڑے بڑے ائمہ اورحفاظ حدیث نے ان کی بہت ثناء بیان کی ہے باقی رہی ان کی کتاب المستدرک تومعلوم ہوتاہے کہ انھیں اس کی تبییض ونظرثانی کاموقع نہیں مل سکا،اس لیے اس میں کچھ منکراورموضوع احادیث ہیں اس کے باوجود بھی اس میں کافی احادیث صحیح اورحسن ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 549

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ