سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(112)لاطلاق فی اغلاق

  • 14898
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-29
  • مشاہدات : 747

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسحاق احمدنےاپنی بیوی کوطلاق دی پھرفوراہی رجوع کرلیالیکن بعدمیں زبردستی طلاق لکھوائی گئی حالانکہ وہ عورت حاملہ بھی ہے۔شریعت کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہوناچاہئے کہ اگرخاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھرنادم اورپریشان ہوکرفوراہی رجوع کرلیادوگواہوں کی موجودگی میں تویہ طلاق رجعی ہوئی اورخاونددوران عدت اگربیوی سےرجوع کرناچاہے تورجوع کرسکتا ہے۔باقی جوجبراطلاق لکھوائی گئی ہے وہ جائز نہیں ہے ۔ایسے واقعات موجود ہیں ایک آدمی نے بیک وقت تین طلاقیں دیں پھر رجوع کرنا چاہاتوآپﷺنے رجوع کی اجازت دے دی ۔باقی زبردستی کی  طلاق ناجائز ہے یہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔

نوٹ:......اگرزبردستی اس صورت میں ہے کہ جا کو خطرہ ہے توطلاق نہیں ہوگی ورنہ دوسری صورت میں صرف ذہنی دباو ڈال کرطلاق لی جائے تویہ طلاق المکرہ نہیں ہوگی۔(قاسم شاہ راشدی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 456

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ