سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(98)پاگل شوہرکا حکم

  • 14883
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-28
  • مشاہدات : 992

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کےبارےمیں کہ عبدالحکیم جوکہ پاگل  ہے اس کی ایک بیٹی ہے جس کا نکاح عبدالحکیم کے دوسرے بھائی کے بیٹے سےکروایاگیااورانہوں نے اپنی بیوی کوگھرسےنکال دیااب وہ اپنے ماموں کے ہاں رہتی ہے اس بات کوتقریبا چارسال ہوئے ہیں اورخاوندنے ابھی تک نہ بیوی کا مطالبہ کیا ہے اورنہ ہی خرچہ وغیرہ وغیرہ دیتا ہے،اورشریعت محمدی کے مطابق بتائیں کہ کیا وہ  لڑکی دوسری جگہ نکاح کرسکتی  ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہیئےکہ جب خاونداپنی بیوی کوخرچہ نہ دےاورنہ ہی چارسال تک حال احوال پوچھے اب اس صورت میں عورت نکاح ختم کرواسکتی ہے۔

جس طرح قرآن کریم میں ہے:

﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَ‌ارً‌ۭا لِّتَعْتَدُوا﴾ (البقرة:٢٣١)

‘‘عورتوں کونقصان پہنچانے کی خاطرروکے مت رکھو۔’’

یہ بھی ظلم ہے کہ اس کو خرچہ وغیرہ نہ دیا جائے یہ بھی نقصان پہنچاناہے:

﴿وَعَاشِرُ‌وهُنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ﴾(النساء:١٩)

‘‘عورتوں کےساتھ اچھاسلوک کرو۔’’

تاکہ وہ اچھی طرح زندگی بسرکرسکیں۔

دوسری جگہ اللہ نے فرمایا:

﴿فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌۢ بِإِحْسَـٰنٍ﴾ (البقرة:٢٢٩)

‘‘اچھائی کے ساتھ رکھناہے یاعمدگی کے ساتھ چھوڑدیناہے۔’’

اورحدیث پاک میں ہے:

((عن سعيدبن المسيب رضى الله عنه فى الرجل لايجد ما ينفق على أهله قال يفرق بينهما.)) سنن سعيد بن منصور’جلدنمبر١’صفحہ نمبر:٥٥.
اس سے معلوم ہواکہ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے باقی خرچہ وغیرہ بندکرنایہ ظلم ہے اورظلم کرناناجائز ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 438

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ