سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35)معراج نبویﷺ

  • 14820
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-22
  • مشاہدات : 819

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آپﷺکو معراج جسمانی ہواتھا یا روحانی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی مکرمﷺپر اللہ تعالی کی طرف سے ایک ہی رات میں دواحسان ہوئے۔(1) اسراء۔ (2) معراج دونوں روح مع الجسم سےہوئےاسراء مسجدحرام(مکہ مکرمہ)سےمسجداقصی(بیت المقدس)تک ہوااورمعراج وہاں بیت المقدس سےآسمانو ں کی سیر ہوئی ۔دونوں کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔اسراء کا تذکرہ سورۃ بنی اسرائیل کی ابتدامیں ہے اللہ رب العالمین فرماتے ہیں:

﴿سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَ‌ىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَ‌امِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا﴾ (بنی اسرائيل:١)

‘‘پاک وہ ہے ذات جس نے اپنے بندے کو ایک رات میں مسجد حرام سے لےکرمسجد اقصی تک سیر کروائی۔’’

اورظاہرہے کہ عبدکااطلاق جسم اورروح دونوں پر ہوتا ہے نہ کہ صرف روح پر۔اسی طرح ‘‘اسری’’کے لفظ سے صرف روح مرادلیناغلط ہے کیونکہ اگرواقعہ یہ روحانی ہواتھاتواس کے لیے قرآن کریم اس طرح فرماتا کہ:

﴿سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَ‌ىٰ عَبْدِهِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَی فی ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَ‌امِ.﴾

بلکہ اس کی جگہ اس طرح کے الفاظ کہ‘‘اپنے بندے کو یہاں سے لےکروہاں تک سیر کروائی۔’’

یہ دلالت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ روحانی ہرگز نہ تھااس کے بعد احادیث صحیحہ میں وارد ہواہے کہ آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک پہنچنانے کے لیے براق نامی جانورلایاگیاتھا جس پرآپ سوارہوئے۔کیا روحانی طورپر سیر کے لیے اس طرح سواری کے لیے جانورکی ضرورت تھی؟اس کے بعد مسجد اقصی سےآسمانوں کی طرف ارتقاء ایک نورانی سیڑھی کے ذریعے ہوااس لیے اسے معراج کہا جاتا ہے اورمعراج کی معنی سیڑھی ہے اس کے لیے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔کیونکہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ کی جملہ احادیث مع آیات یکجاکردی ہیں جن سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ معاملہ روح اورجسم دونوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے نہ کہ صرف روح سے پھر ہرآسمان کی ابتدامیں سیدنا جبریل

 علیہ السلام  دروازہ کھلوارہے تھے اوراس دروازے کے چوکیداریا خازن کا آپﷺکے متعلق پوچھنااورجبریل امین علیہ السلام کا آپﷺکے متعلق بتانااس کے بعددروازہ کھلنایہ سب باتیں جسم اورروح دونوں پر دلالت کرتی ہیں۔روحانی یا خواب میں تو(اکثرطورپر)صرف یہ دیکھنے میں آتاہے کہ فلاں جگہ پہنچ گیا ہوں ،درمیان کے معاملات سامنے نہیں آتے۔

علاوہ ازیں حدیث شریف میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آکرمجھے نیندسےبیدارکیااوروہاں سے لے جاکرزمزم کے کنویں کے پاس آئے اورمیری قلب (دل)کونکال کرپانی کےساتھ دھویاپھراس میں ایمان اورحکمت بھردی اورپھرواپس اسی جگہ رکھ دیااوروہاں سے باہرلے جاکربراق پرسوارکیا۔کیاروح کے لیے اس طرح کی تفصیلات ومعاملات کی ضرورت تھی؟معراج کاتذکرہ سورۃ النجم میں ہے کہ:

﴿وَلَقَدْ رَ‌ءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَ‌ىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَ‌ةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾ عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ ﴿١٥﴾ إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَ‌ةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾ مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ‌ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾ (النجم:١٣تا١٧)

یعنی نبی کریمﷺنے دوسری مرتبہ اترتے وقت جبریل علیہ السلام کوسدرۃ المنتہی کےنزدیک دیکھااوروہ سدرۃ المنتہی مئومنین کی ہمیشہ رہنے کی جگہ جنت کے قریب تھی۔پھرآپﷺنے اللہ تعالی کی کچھ آیات کبری کامشاہدہ کیا اس مشاہدہ کے دوران آپﷺکی نظر مبارک نہ توحدسےمتجاوزہوئی اورنہ ہی سیدھی راہ سے ہٹی آخر روحانی معاملہ میں اس طرح چڑھنا اوراترنااورنظرکاحد سے متجاوزنہ ہونا وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا یہ معاملہ توادھرہی بیٹھے بیٹھے مشاہدہ میں آتا ہے اس کے لیے سواری پراوپرنیچے اترنے کی باتوں کی کوئی ضرورت نہ تھی۔آپﷺکواس معراج کے علاوہ روحانی طورپریاخواب میں کئی مرتبہ مشاہدات کروائے گئے تھے آپﷺنے وہ بیان توفرمائے لیکن ساتھ یہ فرماتے کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ خواب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کاتعلق جسم سے ہے لہذا اس میں خواب کی تصریح نہیں فرمائی بلکہ اس میں خواب کے برعکس اوپرچڑھنے ،اترنے وغیرہ کا ذکرہے۔کیا ایک سلیم الفطرت انسان ان دونوں واقعات میں فرق اورتفاوت سمجھ نہیں سکتا؟باتیں تواوربھی زیادہ ہیں لیکن طوالت سے کام لینا مناسب نہیں صرف آخری ایک بات پراکتفاء کرتے ہیں۔اگریہ معاملہ بالفرض روحانی یاخواب کا ہوتاتوصبح کے وقت جب آپﷺنے اس سفراورمشاہدہ کا تذکرہ فرمایاتوکچھ ضعیف الایمان شک میں پڑگئے اورکچھ کفارنے اعتراض کیا کہ ہمیں بیت المقدس آنے جانے میں کئی ماہ بیت جاتے ہیں توایک ہی رات میں(اوپرآسمان والی بات تودوررہی)بیت المقدس جاکرپھر واپس بھی آگیا۔ظاہر ہے کہ یہ اعترض جسمانی معاملہ پر ہے ورنہ خواب میں یا روحانی طرح انسان کہیں دورجاکربہت کچھ دیکھ آتا ہے کبھی دیکھتا ہے کہ میں

مکہ مکرمہ میں پہنچ گیاہوں طواف کررہا ہوں حجراسودکوبوسہ دے رہا ہوں،ان سب معاملات کو بتانے پر کوئی بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتالیکن اگرکوئی شخص یہ کہے کہ آج رات میں جاگتے ہوئے مکہ مکرمہ گیا تھا طواف وغیرہ کرکے واپس آگیا ہوں تویہ بات قابل اعتراض ہے اورواقعی لوگ اس پر اعتراض کریں گے۔

اسی طرح اگر یہ معاملہ صرف روحانی تھا توکفارکااعتراض بالکل بے معنی ہے اوروہ اس طرح نہ کہتے کہ اگر واقعتا تم گئے ہوتوہمیں بیت المقدس کی نشانیاں بتادواورآپﷺبھی ان کی اس بات پر پریشان نہ ہوتے کہ میں خاص طورپر نشانیاں نوٹ کرنے تونہیں گیا تھا اوراب ان کو کیا بتاوں بلکہ آپﷺفرمادیتے کہ میں نے یہ دعوی تونہیں کیا کہ میں جسم کے ساتھ سیر کرکے آیا ہوں یہ صرف خواب یا روحانی معاملہ تھا۔اس طرح فرمادیتے اورسارامعاملہ ختم ہوجاتا۔جب آپﷺکی معراج والی یہی بات ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے کفارنےبطوراعتراض پیش کی توانہوں نے فرمایا:اگرنبیﷺنے یہ بات کہی ہے تو آپﷺنے بالکل سچ فرمایاہےواقعتآپ نے یہ سیرکی ہے اس میں بھی واضح دلالت موجود ہے کہ یہ معاملہ جسمانی تھا کیونکہ اگریہ واقعہ روحانی تھا یا محض خواب تھا پھر صدیق اکبررضی اللہ عنہ صاف فرمادیتے ارے کیا بات کرتے ہویہ توروحانی معاملہ ہے یا خواب کا واقعہ ہے اس پر اعتراض کیا معنی رکھتا ہے؟بہرحال ایک منصف مزاج اورحق پرست کے لیے مذکورہ بالادلائل کافی وشافی ہیں باقی کج بحث اورہٹ دھرم لوگ کبھی بھی حق کو سمجھ نہیں سکتے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 230

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ