سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(172) قسم کا کفارہ

  • 14772
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-21
  • مشاہدات : 852

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی عورت نے قسم اٹھائی اور پھر اس قسم کو کچھ وجوہات کی بنا پر توڑ دیا اب انتہائی مصروف زندگی میں ساٹھ مسکینوں کو اکھٹا کرنا انتہائی مشکل ہے اور دو مہینے کے مسلسل روزے بھی نہیں رکھ سکتی تو کیا قسم کا کفارہ پیسوں کی شکل میں ادا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ پیسے جہاد فنڈ میں بھیج سکتی ہے؟   (ایک مسلمان بہن)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے سوال میں جو ساٹھ مسکینوں کا کھانا اور دو مہینوں کے روزوں کا کفارہ قرار دیا ہے وہ قسم کا کفارہ نہیں بلکہ ظہار کا ہے اور روزہ کی حالت میں بیوی سے مجامعت کا کفارہ ہے۔ قسم کا کفارہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة المائدہ کی آیت۸۹ میں ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ... ٨٩﴾...المائدة

            ''اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا اور البتہ ان قسموں پر پکڑ ہو گی جو تم نے ارادةًکھائی ہوں گی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلا دے جو اپنے اہل و عیال کو کھلانا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے یا ایک غلام آزاد کر دے اور جو ان میں سے کسی بھی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم (قصدا) قسم کھائو (پھر اس کو توڑ دو)۔''

            کفارہ میں صرف وہی اشیاء ادا کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں نصاً ذکر کی ہیں۔ پیسوں کا چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کیا اس لئے قیمت پیسوں کی صورت میں ادا کرنا درست نہ ہو گا۔ ابنِ قدامہ فرماتے ہیں:

(( لا يجزئ فى الكفارة  إخراج  قيمة  الطعام  فى قول إمامنا زمالك  و الشافعى و غيرهم .))

            ''قسم کے کفارہ میں قیمت ادا کرنا امام احمد، مالک، شافعی رحمة اللہ علیہم کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔''  (المغنی ج۱۱، ص۲۶۵)

            بعض فقہاء نے جواز کا بھی فتویٰ دیا ہے لیکن ان کا استدلال انتہائی کمزور ہے۔ کفارہ کا مصرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دس مساکین ذکر کئے ہیں کفارہ کا مصرف جہاد فنڈ نہیں ہے (کیونکہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے اسے کفارہ کا مصرف قرار دیا ہے نہ اس کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے )۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ