سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(143) تعویذ کی شرعی حیثیت

  • 14749
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-16
  • مشاہدات : 2239

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔ تعویذ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

۲٢۔قرآنی آیات کے تعویذ کا جواز شریعت میں کیونکر ہے؟

۳٣۔ اہلحدیث کہلوانے والے امام جو کہ قرآنی آیات کے تعویذ کرتے ہوں ، کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

۴٤۔ کیا تعویذ کرنا شرک ہے اور اگر شرک ہے تو اس کا لکھنے والا اور لینے والا مشرک ہے یا نہیں؟   (سید رضا احمد شاہ گیلانی ، چیچہ وطنی ساہیوال)  

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کی سند میں اعمش مدلس راوی ہیں اور روایت معنعن ہے (ابو طاہر)

:        عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

((إن  الرقى  والتمائم  و التولة  شرك))

            ''یعنی دم اور تمائم اور محبت کے ٹونے ٹوٹکے شرک ہیں۔''(رواہ احمد و ابو داؤد)

            اس حدیث میں دم سے مراد شرکیہ دم ہیں کیونکہ شرک سے پاک دم کرنے کی اجازت بلکہ ترغیب خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أعرضوا  على  رقاكم  لا بأس  بالرقى ما لم تكن  شركا.))

            ''مجھے اپنے دم سناؤ  دَم میں کوئی حرج نہیں جب تک شرک نہ ہو۔''

            اور صحیح مسلم میں ہی دَم کے متعلق آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

((من استطاع  أن ينفع  أخاه  فلينفع .))

            ''جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو پہنچائے۔''

            تمام تمیمہ کی جمع ہے اس کا ترجمہ عام طور پر تعویذ کیا جاتا ہے ۔ مگر یہ ترجمہ درست نہیں کیونکہ تمیمہ کے متعلق لغت کی تمام کتابوں میں لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ منکے وغیرہ ہیں جنہیں اس مقصد کے لئے لٹکایا جاتا تھا کہ ان کے لٹکانے سے بیماری دور رہتی ہے۔

قاموس میں لکھا ہے:

(( خرزة  رقطاء تنظم  فى السير  ثم  يعقد فى العنق.))

            ''یعنی سیاہ و سفید نکتوں والا منکا ہے جو چمڑے میں پرو کر گلے میں ڈالا جاتا ہے۔''

کتاب التوحید کی شرح فتح المجید میں ہے:

" وهى  ما يعلق بأعناق الصبيان  من خرزات  و عظام  لدفع  العين  وهذا  منهى عنه ."

            یعنی تمیمہ وہ منکے یا ہڈیاں ہیں جو نظر بد سے دور رکھنے کے لئے بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہیں۔ بیماری سے بچائو کے لئے ڈالے جانے والے کڑے ، دھاگے ، درختوں کے پتے ، ہاتھوں یا گلے میں پہنے جاتے ہیں یا لوہے کے اوزار جو چارپائی پر رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ سب اسی میں آتے ہیں اور شرک ہیں کیونکہ یہ چیزیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں ، نہ نقصان دور کر سکتی ہیں۔

            رہاتعویذ یعنی کاغذ پر کچھ لکھ کر گلے میں ڈالنا تو اس کا وجود رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے سے معلوم نہیں۔ یہ چیز بعد میں شروع ہوئی ہے۔ اس لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر غور کر نا ہو گا۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر تعویذ میں اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگی گئی ہو یا غیر کا نام یا ہندسے لکھ کر گلے میں ڈالے جائیں تو یہ صریح شرک ہے اور ایسا کرنے والا مشرک ہے۔ اسے امام بنانا جائز نہیں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴿٥﴾...الأحقاف

            ''اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کے علاوہ ایسے لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس بات کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔''(احقاف : ۵)

            البتہ اگر کوئی شخص اللہ کا نام یا قرآن مجید کی آیت لکھ کر گلے میں لٹکائے تو اسے شرک کہنا درست نہیں۔ کیونکہ اس میں اس نے کسی غیر سے مدد نہیں مانگی۔ اگر کوئی کہے کہ اُ سنے کاغذ گلے میں لٹکایا ہے تو یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ تعویذ لکھنے والا یا گلے میں ڈالنے والا کوئی موحد کاغذ میں نفع نقصان کی کوئی تاثیر نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کاغذ میں لکھے ہوئے اللہ کے نام یا اس کے کلام کی برکت سے شفا کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اللہ کا کلام دَم کی صورت میں انسانی آواز میں ادا ہو تب بھی اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے اور غیر مخلوق ہے اور انسانی قلم و دوات سے کاغذ پر لکھا شرک قرار دیتے ہیں، ان کی بات بالکل بے دلیل ہے اور وہ غلو کاارتکاب کر رہے ہیں۔ البتہ یہ طریقہ چونکہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں نہ تھا اس لئے سلف صالحین میں اس کے جواز کے متعلق اختلاف ہے (دیکھئے المجید باب ماجاء فی الرقی والتمائم)

            جواز کے قائلین اسے علاج کی ایک صورت قرار دیتے ہیں جس میں کوئی شرک نہیں اور شرک سے پاک دَم کی طرح اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ منع کرنے والے کہتے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  قرآن مجید لکھواتے تھے، بعض اوقات احادیث بھی لکھواتے تھے۔ لوگوں کے علاج اور شفا کے لئے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  تعویذ لکھوا کر دور دراز بھیج سکتے تھے اور اس کی ضرورت بھی تھی۔ مگر ضرورت کے باوجود آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسا نہیںکیا۔ اس لئے جائز نہیں۔

            ہمیں صرف دَم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اگر غور کیاجائے تو یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ جب رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے دَم پر اکتفا کیا ہے تو ہمیں بھی اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ لیکن کوئی توحید والا شخص اگر قرآنی تعویذ اللہ کے اسماء و صفات پر مشتمل تعویذ لکھتا ہے۔ تو بے شک اس کا ہمارے ساتھ سوچ میں اختلاف ہے ، مگر اسے نہ مشرک کہہ سکتے ہیں ، نہ اس کے پیچھے نماز چھوڑی جا سکتی ہے۔ اختلاف سلف صالحین رحمة اللہ علیہم میں بھی ہوتا تھا مگر ان میں سے کسی نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں چھوڑی۔ ہم اپنے بھائیوں کو دلائل سے قائل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، مگر اجتہادی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کا اتفاق پارہ پارہ ہو، اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ