سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(53) ایک مسجد میں دوبارہ جماعت کا حکم

  • 14661
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-10
  • مشاہدات : 1033

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایک مسجد میں دو جماعتیں ہو سکتی ہیں یا صرف ایک ہی جماعت کا حکم ہے ؟ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک ہی مسجد میں دوبارہ جماعت کرانے کا جوا زصحیح احادیث میں موجود ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم ، تابعین عظام اور فقہاء محدثین  رحمہم اللہ  کا اس پر عمل رہا ہے۔ سنن ابو داؤد میں سیدنا ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

(( أن رسول الله صلى الله عليه وسلم  أبصر رجلا يصلى وحده فقال ألا رجل يتصدق على هذا فيصلى معه.))

    '' رسول اللہ ؑ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اکیلا نماز پڑ ھ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : کیا ایسا کوئی آدمی نہیں جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔'' (سنن ابو داؤد ۱/ ۱۵۷، ترمذی ١ /۴۱۷ )
ترمذی میں یہ الفاظ مروی ہیں :

(( أيكم يتجر على هذا فقام رجل فصلى معه))

    '' تم میں سے کون شخص ہے جو اس کے ساتھ اُجر ت میں شریک ہو ؟ ایک آمدی کھڑا ہو ااور اُ س نے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھی''۔
    یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے اور مسدن احمد ۳/۵، ٤٥، ۸۵ ۔ سنن درامی ۱/ ٣١٨ مستدرک حاکم، محلی ابن حز ٤/ ۲۳۸ ۔ امام حاکم نے مستدرک حاکم میں اس روایت کو صحیح کہا ہے اور تلخیص میں امام ذہبی نے حاکم کی موافقت کی ہے ۔ علامہ زیلعی حنفی نے نصب رایہ میں اور علامہ سیوطی نے فوت المغتذی میں لکھا ہے کہ جس آدمی نے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی تھی وہ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماعت ثانیہ مسجد میں جائز ہے اور اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں آجائے جب جماعت ہو چکی ہو تو وہ دوبارہ کسی کے ساتھ مل کر جماعت کی صورت میں نماز ادا کرے تو یہ صحیح مشروع اور جائز ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے الفاظ ( ایکم یتجر علی ھذا الا رجل یتصدق علی ھذا )اس پر شاہد ہیں۔
    سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی اس حدیث کا یہی مفوہم سمجھا اور وہ دوسری جماعت کے قائل و فاعل تھے۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں لکھاہے کہ :

(( جاء أنس إلى المسجد قد صلى فيه فأذن و أقام وصلى جماعة.))
    '' سید نا انس  رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد میں آئے جماعت فوت ہو چکی تھی تو انہوں نے اذان و اقامت کہی اور جماعت سے نماز پڑھی ۔ '' ان کا یہ اثر ابن شیبہ ١۱/۱۴۸ ١٤٨ ابو یعلیٰ اور بیہقی میں موصولاً مروی ہے اس کی سند صحیح ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ