سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(343) حمل کی حالت میں طلاق ثلاثہ اور عدت کے اندر رجوع

  • 14443
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-18
  • مشاہدات : 767

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاحمل کی حالت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟(سائل: عبد الجلیل اکبری منڈی لاہور )  


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ حمل کی حالت میں حاملہ عورت کو طلاق پڑجاتی ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ... ٤﴾...الطلاق

’’حمل والیوں کی عدت وضع حمل تک ہے ۔،،

اور عدت طلاق کے بعد والی مدت  انتظار کو کہا جاتا ہے ۔ یعنی عدت طلاق کا نتیجہ ہےاگر حاملہ عورت طلاق کامحل نہ ہوتی تواس کی عدت بیان کرنا ایک عبث چیز ہوتی جب کہ قرآن عبث کام سے پاک او رمبرا ہے ، پس ثابت ہوا کہ حاملہ پر طلاق پڑجاتی ہے ۔ 

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص837

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ