سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(280) صحت نکاح کے لئے لڑکی کا اذن ضروری ہے

  • 14380
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-12
  • مشاہدات : 1261

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں مسمی  محمد دین ولد قاسم علی کھو کھر چک نمبر ۱۵ تحصیل و ضلع اوکاڑہ کا ہوں مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے جو ذیل میں عرض کرتا ہوں :

یہ کہ میری بیٹی مسمات صغراں بی بی کا نکاح زبردستی اغوا کر کے مسمی شوکت علی ولد سراج دین قوم آرائیں چک نمبر ۱۲ تحصیل و ضلع اوکاڑہ سے چھ ماہ قبل نکاح کر دیا۔

مسمات  مذکورہ  تقریباً ۲ ماہ ان کی حراست میں رہی ۔محمد اسلم ،محمد سلیم اور محمد برکت نے مل کر اغوا کیا انہوں نے کہا کہ آپ کی چچی بہاولپور سے آئی ہے آپ اسے لے  آئیں۔مسمات کو بہانے کےساتھ لے گئے اور کوئی چیز سونگھا دی مسمات کو  اغوا کرنے کے بعد مختلف مقامات پر رکھا ۔مسمات کے نکاح فارم پرزبردستی دستخط کروائے مسمات نے ایجاب و قبول نہ کیاہے۔ مسمی مذکورہ شوکت علی نے مسمات کو ایک کمرہ میں حبس بے جامیں رکھا ۔اور جاتے وقت کمرے کا تالا لگاتا۔مسمات کو اس سے سخت نفرت ہے اوراسے پسند نہ کرتی ہے یہ کہ مسمی مذکور مسمات پر بلا  جواز تشدد کرتا رہا ہے اور خاوند مذکور مسلسل شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کرتا ہے ۔مسمات ہر وقت ذہنی اور جسمانی تکلیف کا شکار رہتی ہے ۔مسمات کو نکاح کے وقت سخت دھمکی دی کہ اگر تم نےنکاح نہ پڑھا تو تم کو قتل کر دیں گے۔ان تمام باتوں کامسمات کے والدین کو علم تک نہ ہے  اور نہ ہی باپ اور دیگر رشتہ دار وں کو بھی اس بات کا علم ہے جب مسمات کاعلم ہوا تو مسمات کے والدین بذریعہ  پولیس واپس لے کر آئے  اس بات کو ساڑھے چار ماہ کا عرصہ ہوچکاہے ۔مسمات  اس وقت بڑی پریشان ہے۔ اور مسمات اس کے ہاں بالکل آباد ہونا نہیں چاہتی ہے اور مسمات اس نکاح کو تسلیم نہیں کرتی۔ نکاح فارم پر مسمات کے باپ کا کوئی بھی انگوٹھا نہیں ہے ۔اب علمائے دین بالکل سے سوال ہے کہ آیا شرعاً زبردستی نکاح بغیر والدین کی رضا مندی کے جائز ہے یا نہیں ۔ہمیں مدلل شرعاً جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں ۔کذب بیانی ہوگی تو سائل خود ذمہ دار ہوگا ، لہٰذا مجھے شرعی  فتویٰ صادر فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال اگر صورت محررہ  سچ مچ اصل واقعہ کے عین مطابق ہے تو واضح ہو کہ نکاح اور اس کے انعقاد شرعی کے لئے لڑکی کی رضا مندی اور ولی کی اجازت بلا اکراہ جبر شرعاً نہایت ضروری بلکہ اساسی شرط ہے ۔اگر یہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک نہ ہو تو شرعاً نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔چنانچہ صحیح بخاری وغیرہ میں ہے :

(أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: «أَنْ تَسْكُتَ»(۱:صحیح البخاری باب لاینکح الا ب وغیرہ البکر والشیب الا برضاھا،ج۲ ص ۷۷۱)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک بیوہ عورت سے مکمل مشورہ نہ کیا جائے اس کا نکاح  نہ کیا جائے اور اس طرح جب تک کنواری عورت سے اجازت نہ لی جائے اس کا نکاح نہ پڑھا جائے۔آپ ﷺنے دو بارفرمایا :اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے

(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ «أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»(۲: رواہ احمد و ابوداؤد ابن ماجة، سبل السلام ج۳ ص ۱۲۲)

”ایک جوان لڑکی  رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرےوالد نے دھکے سے میرا نکاح کر دیا ہے ،جبکہ میں اس نکاح کو پسند نہیں کرتی تو رسول اللہﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو بحال رکھے یا  اس نکاح کو مسترد کر دے“

اگرچہ حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو مرسل ،یعنی ضعیف کہا ہے ،مگر یہ جرح درست نہیں ۔ اس جرح کا جواب یہ ہے:

(وَأُجِيبَ عَنْهُ بِأَنَّهُ رَوَاهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ مَوْصُولًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ حِبَّانَ عَنْ أَيُّوبَ مَوْصُولًا، وَإِذَا اخْتَلَفَ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ، وَإِرْسَالِهِ فَالْحُكْمُ لِمَنْ وَصَلَهُ قَالَ الْمُصَنِّفُ: الطَّعْنُ فِي الْحَدِيثِ لَا مَعْنَى لَهُ لِأَنَّ لَهُ طُرُقًا يُقَوِّي بَعْضُهَا بَعْضً) (۱:سبل السلام ج۳ص۱۲۲)

کہ ایوب بن زید سوید اور زید بن حبان نے  اس حدیث کو ایوب سے موصول بیان کیا ہے اور پھر اس کی اسناد بھی متعدد ہیں جو ایک دوسری کو تقویت دے رہی ہیں جس سے یہ حدیث حجت بن جاتی ہے ۔ان دونوں احادیث صحیحہ سے ثابت ہواکہ جب تک لڑکی راضی نہ ہوتو شرعی ولی کا پڑھا ہوانکاح بھی شرعی نکاح نہیں ہوتا اور ایسی مجبور لڑکی کو اس نکاح  کو بحال رکھنے یا فسخ کر دینے کا شرعاً حق حاصل ہے ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں پڑھا گیا نکاح چونکہ دھکے اور سینہ زوری پر مشتمل ہے ۔لہٰذا یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا۔یعنی باطل ہے ۔

(عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ») (۲:فقه السنة :ج۲ ص۱۱۲)

”حضرت ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ولی کیاجازت کےبغیر نکاح نہیں ہوتا“اس حدیث کو ابو داؤد ،احمد ، ترمذی نے روایت کیا ہے ،امام ابن حبان اور امام الحاکم نے اس کو صحیح کہا ہے

(وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»)(۳:کذافی فقه السنة ج۲ص ۱۱۲)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جس عورت نےاپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ،باطل ہے،باطل ہے “

ان دونوں احادیث سے ثابت ہوا کہ ولی کی اجازت کے بغیر شرعاًنکاح نہیں ہوتا،لہٰذایہ نکاح باطل ہے ۔کیونکہ والد کے ہوتے ہوئے حق ولایت والد کےلئے ہے ،لہٰذا والد کے  ہوتے ہوئے کوئی دوسرا ولی  نہیں بن سکتا۔

حافظ عبداللہ محدث روپڑی ایک ایسے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :عورت  عیاش بدکار ہے کسی کے ساتھ بگڑ گئی ہے۔ اولیاء اس کی بھلائی چاہتے ہیں  ایسی حالت میں اولیا کی اجازت کے بغیر نکاح پڑھا ہوا صحیح نہیں ۔اس حالت میں دوسری جگہ  نکاح ہو سکتا ہے طلاق کی ضرورت نہیں۔(فتاویٰ روپڑیہ :ج۲ص۴۱۴)

خلاصہ :خلاصہ بحث یہ کہ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں زور زبردستی پڑھا گیا  نکاح بدو وجہ باطل ہے  ،اس لئے کہ ایک تو لڑکی کو اغوا کر کے جبراً اس کا نکاح پڑھا  گیا ہے جبکہ یہ لڑکی اس نکاح  پر راضی نہ تھی ۔دوسری وجہ یہ کہ اس نکاح میں اس لڑکی  کے ولی یعنی والد کی اجازت نہیں  لی گئی ۔فارم پر زور زبردستی سے  دستخط کروالینے سے شرعاً نکاح ہی نہیں ہوتایہ جواب محض ایک  شرعی مسئلہ کا شرعی جواب ہے ۔عدالت مجاز سے اس کی توثیق نہایت ضروری ہے اوریہ جواب بشرط صحت سوال  تحریر کیا گیا ہے ۔اصل  صورت حال اللہ علیم خبیر ہی کو ہے ۔مفتی کسی سقم کا ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا 

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص709

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ