سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(308) عورت ولی نہیں بن سکتی

  • 14377
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-12
  • مشاہدات : 1429

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں مسمی غلام قادر ولد میاں قمر چک نمبر ۱۴ ون تحصیل و ضلع  اوکاڑہ کا رہائشی ہوں یہ کہ مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنامقصود ہے جو ذیل میں عرض کرتا ہوں ۔

یہ کہ میری حقیقی دختر مسمات نزیراں بی بی کا باپ کی اجازت کے بغیر نکاح ہوا جبکہ نزیراں بی بی اپنی پھوپھی سے ملنے گئی تو اس نے ورغلا کر اس کا نکاح اپنے لڑکے امیر ولد نور قوم مسلم شیخ چک نمبر ۳۵ ٹو آر تحصیل و ضلع اوکاڑہ سے کر دیا تھا جس کو ۷ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب کہ مسمات نزیراں بی بی اس نکاح پر راضی نہ تھی اور نہ ہی مسمات اپنے خاوند مذکور کے ہا ں رہنا چاہتی اور نہ مذکور اس کے ہاں آباد ہونے کو تیار ہے ۔بالاٰخر ایک دن موقع پاکر مذکورہ نذیراں بی بی اپنے والدین کے ہاں آگئی جس کو عرصہ تقریباً ۴ماہ ہو چکاہے ۔ اب مذکورہ اپنے والدین کے ہاں ، زندگی کے دن گزار رہی ہے ۔ان حالات میں علمائے دین سے سوال ہے کہ اب مسمات مذکورہ نکاح جدید کی حق دار ہے  یا نہیں قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ عورت نہ تو خود اپنا نکاح کر سکتی ہے اور نہ کسی دوسری عورت کی ولی بن سکتی ہے ۔جبکہ صحت نکاح کےلئے ولی مرشد کی اجازت از بس ضروری ہے  ۔صحیح  بخاری میں ہے :باب:

(بَابُ مَنْ قَالَ: لاَ نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} [البقرة: 232] فَدَخَلَ فِيهِ الثَّيِّبُ، وَكَذَلِكَ البِكْرُ، وَقَالَ: {وَلاَ تُنْكِحُوا المُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا} [البقرة: 221] وَقَالَ: {وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ} [النور: 32](ج۲ ص۷۶۹)

کہ اس بات کا بیان کہ جو شخص نکاح کی صحت کے لئے ولی کی اجازت کو ضروری سمجھتاہے وہ قرآن کی اس آیت سے  دلیل لیتا ہے ”جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدت پوری کر لیں تو ان کو نکاح سے نہ روکو “ یعنی اگر ولی کو کوئی اختیار ہی نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ولیوں  کو یہ حکم  کیوں دیا ہے ۔ لہٰذا ماننا پڑتا ہے کہ ولی کو حق ولایت حاصل ہے  عورت خواہ شوہر دیدہ ہو یا کنواری ہو ۔اور اسی طرح آیت (وَلاَ تُنْكِحُوا المُشْرِكِينَ اور(وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى) میں بھی عورتوں کے لئے ولیوں کو حکم خطاب کیا گیا ہے لہٰذا ان تینوں نصوص سے واضح ہوا کہ صحت نکاح کے لیے  ولی مرشد کی اجازت ناگزیر ہے ۔ورنہ ان  تینوں آیات میں ولیوں کو خطاب کا کوئی معنی باقی نہیں اور کلام الٰہی عبث قرار پاتا ہے ۔حاشا وکلا

 (وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا نكاح إلا بولي " حَدِيثُ أَبِي مُوسَى أَخْرَجَهُ أَيْضًا ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ وَصَحَّحَاهُ، وَذَكَرَ لَهُ الْحَاكِمُ طُرُقًا قَالَ: وَقَدْ صَحَّتْ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ثُمَّ سَرَدَ تَمَامَ ثَلَاثِينَ صَحَابِيًّا، وَقَدْ جَمَعَ الدِّمْيَاطِيُّ طُرُقَهُ مِنْ الْمُتَأَخِّرِينَ وَقَدْ اُخْتُلِفَ فِي وَصْلِهِ وَإِرْسَالِهِ،)(نیل الاوطار :ج۳ص ۱۱۷ )

”حضرت ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا " یہ حدیث صحیح ہے ۔اور جمہور علماء امت کے نزدیک صحت نکاح کے لئے ولی کی اجازت ضروری ہے ورنہ نکاح صحیح نہیں ہوگا۔

(عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» أَخْرَجَهُ الْأَرْبَعَةُ إلَّا النَّسَائِيّ وَصَحَّحَهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ) قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ، وَصَحَّحَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ مِنْ الْحُفَّاظِ)) ٍسبل السلام:ج۳ صٍٍ۱۱۸ )

”رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا : جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔اور دخول پر وہ عورت اپنے اس شوہر سے مہر حاصل کرے گی “

(عن أَبِي هُرَيْرَةَ «لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا» رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارَقُطْنِيّ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ) (سبل السلام ج۲ صٍ۱۲۰)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ از خود اپنا نکاح کرے ۔یعنی عورت ولی نکاح نہیں بن سکتی ۔امام محمد بن اسماعیل الامیر الیمانی اس حدیث کی شرح لکھتے ہیں :

(فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَ لَهَا وِلَايَةٌ فِي الْإِنْكَاحِ لِنَفْسِهَا، وَلَا لِغَيْرِهَا فَلَا عِبْرَةَ لَهَا فِي النِّكَاحِ إيجَابًا، وَلَا قَبُولًا فَلَاتُزَوِّجُ نَفْسَهَا بِإِذْنِ الْوَلِيِّ، وَلَا غَيْرِهِ، وَلَا تُزَوِّجُ غَيْرَهَا بِوِلَايَةٍ وَلَا بِوَكَالَةٍ، وَلَا تَقْبَلُ النِّكَاحَ بِوِلَايَةٍ وَلَا وَكَالَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْجُمْهُورِ،)(۳:سبل السلام ج۳ صٍ۱۲۰)

کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کو حق ولایت حاصل نہیں لہٰذا نہ وہ اپنا ولی بن سکتی ہے اور نہ کسی اور عورت کا ولی نکاح بن سکتی ہے ۔یعنی نہ  اپنا از خود نکاح کر سکتی ہے اور نہ کسی دوسری عورت کا ولی بن کر نکاح کراسکتی ہے  لہٰذا اس کی ولایت میں کیا گیا نکاح ناقابل اعتبار ہے ۔ لہٰذا بشرط صحت سوال مسمات نزیراں بی بی دختر غلام قادر ساکن ۱۴ آر کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا کہ باپ ولی اقرب کی اجازت نہیں تھی۔اور نہ باپ کو اس کا علم ہی تھاپھر نزیراں کی پھوپھی کا یہ اقدام سراسر خلاف شریعت ہے ۔مفتی کسی قانونی سقم کا ذمہ دار نہ ہوگا عدالت مجاز سے توثیق ضروری ہے ۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص751

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ