سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(362) بولی والی کمیٹی کی آمدنی حرا م ہے

  • 14359
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-05
  • مشاہدات : 1413

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کوئی شخص خطبہ ا امامت کے فرائض سر انجام دیتا ہے اور تجارت بھی کرتا ہے ۔ اس بازار میں دکانداروں نے  کمیٹی ڈالی ہے ۔ جس کو  بولی والی کمیٹی کہتے ہیں یعنی ہر مہینہ اس کی رقم کی بولی ہوتی ہے اور ا س منافع کو ممبران کمیٹی پر تقسیم کر دیا جاتا ہے ۔اس  خزانچی  کے پاس امام صاحب مذکور بھی کمیٹی جمع کرواتے ہیں لیکن وہ اس منافع کو غلط اور ناجائز سمجھتے ہیں  اور منافع نہیں لیتے ۔ جتنی رقم جمع کرواتے ہیں پوری پوری رقم  خزانچی سے وصول کرتے ہیں اس شکل میں اس امام کے پیچھے جمعہ نماز پڑھنا  جائز ہے یا  نہیں  ۔

(سائل : رانا مشتاق احمد  چھانگا مانگا ضلع قصور ) 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال و بشرط  صحت واقعہ بولی والی کمیٹی کی مذکورہ صورت تو واضح طور پر سود کے حکم میں ہے جو سرا سر حرام اور ناجائز  اور  باطل کی ایک صورت ہے ۔جس سے اجتناب اور گریز لازم ہے ۔ البتہ دوسری صورت  یعنی جب کہ اس خزانچی کے پاس اپنی رقم بطور امانت برائے بچت جمع کروائی جائے اور بولی کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم سے حصہ نہ وصول کیا جائے بلکہ اس کو حرام سمجھا جائے  اور صرف اپنی باری آنے پر اپنی ہے جمع شدہ رقم  وصول کی جائے  تو یہ صورت جائز ہے ۔ جیسا کہ سراسر سودی بینک کے کرنٹ کھاتہ میں حفاظت کی نیت سے پیسہ جمع کروانا جائز ہے تو ایسے یہ دوسری صورت بھی جائز معلوم ہوتی ہے ۔اور ایسے امام کی اقتدا میں جمعہ نماز پڑھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے کیونکہ اس نے تو  اپنی جائز بچت کی غرض سے اس کمیٹی میں شرکت کی ہے ۔نیز بولی کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم کو منافع کہنا بھی صحیح نہیں بلکہ وہ سراسر سود کی صورت ہے ۔ 

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص862

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ