سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(96) نماز كی حالت میں سلام کا جواب دینا؟

  • 14199
  • تاریخ اشاعت : 2015-12-21
  • مشاہدات : 552

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر دو آدمی اکٹھے نماز پڑھا رہے ہوں (یعنی اپنی اپنی) اور ان میں سے ایک آدمی پہلے سلام پھیر دے، نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلتے وقت وہ السلام علیکم کہے اور دوسرا آدمی جو اس کے ساتھ نماز پڑھ رہاتھااگر وہ نماز کی حالت میں ہو تو کیا وہ اس کے سلام کا جواب دے سکتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرمائیں۔ (سائل: شیخ عمر فاروق، فارق آباد)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں نماز پڑھنے والا سلام کا جواب دے سکتا ہے مگر الفاط میں نہ دے بلکہ ہاتھ کے اشارے کے ساتھ جواب دے کیونکہ نماز کی حالت میں کلام کرنا منع ہے جبکہ وعلیکم السلام کہنا کلام اور گفتگو ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

قلت لبلال کیف رأیت النبیﷺ یردہ علیھم حین یسلمون علیه وھو یصلی؟ قال یقول ھکذا وبسط کفه، وفی روایة قال یبیر بیدہ۔ (رواہ الخمسة إلا ان فی روایة النسائی وابن ماجة صھیبا مکان بلال۔ نیل الاوطار: ج۲ص۳۳۱ وسبل السلام: ج۱ص۱۴۰)

 ’’میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریمﷺ کو نماز کی حالت میں جب صحابہ کرامؓ سلام کرتے تو آپ نے رسول اللہﷺ کو ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے کیسے دیکھا؟ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا ااپ ایسے کہتے تھے اور اپنی ہتھیلی کو پھ۸یلایا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ہاتھ سے اشارہ فرماتے یعنی زبان سے وعلیکم السلام نہ کہتے۔‘‘

امام شوکانی اس حدیث کی شرح میں ارقام فرماتے ہیں کہ اس باب میں حضرت بلال کے علاوہ حضرت ام سلمہ، حضرت عائشہ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت انس، حضرت بریدہ اسلمی، ابن مسعود، معاذ بن جبل، مغیرہ بن شعبہ، ابو سعید، حضرت اسماء رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں۔

صاحب متقی الاخبار تصریح فرماتے ہیں:

وقد صحت الإشارة عن رسول اللہﷺ من حدیث عائشة وجابر ومن روایة أم سلمة۔

’’حضرت ام سلمہ، عائشہ اور جابر رضی اللہ عنہم کی احادیث کے مطابق رسول اللہﷺ سے نماز میں اشارہ کرنا صحیح طور پر ثابت ہے۔‘‘

امام شوکانی تصریح فرماتے ہیں:

والأحادیث المذکورة تدل علی أنه لا باس أن یسلم غیر المصلی علی المصلی لتقریرهﷺ علی ذلک وجواز الرد بالاشارة۔ (نیل الاوطار: باب الإشارة فی الصلاةلردالسلام أوحاجة تعرض ج۲ص۳۳۱،۳۳۲)

’’یہ احادیچ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غیر نمازی، نمازی پر سلام کہ سکتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے سلام کہنے والے کو منع نہیں فرمایا۔ اگر سلام کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ اس کو ضرور منع فرمادیتے۔‘‘

اور اسی طرح ان احادیث صحیحہ حسنہ کے مطابق نماز کی حالت میں اشارہ کے ساتھ سلام کا جواب دینا جائز ہے۔ کچھ اہل علم اس کو منع سمجھتے ہیں اور وہ بھی کچھ احادیث پیش کرتے ہیں۔ مگر امام شوکانی فرماتے ہیں ان احادیث سے اشارہ سے ممانعت سے مراد الفاظ کے ساتھ جواب دینے کے بارے میں ہے اشارہ کی نفی مراد نہیں۔ من شاء التفصیل فلیراجع الی نیل الاوطار۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1 ص364

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ