سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(123) صدقہ کے جانور کی عمر

  • 13880
  • تاریخ اشاعت : 2015-03-02
  • مشاہدات : 597

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صدقہ کے جانور کی عمر اور گوشت کی تقسیم کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی کے جانور کی عمر اور شرائط کی بات تو احادیث مبارکہ میں مذکور ہے۔لیکن عمومی صدقے کے جانور کی عمر کی تحدید کسی نص سے ثابت نہیں ہے۔لہذا آپ جس عمر کا بھی جانور چاہیں صدقہ کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

باقی رہا اس کے گوشت کی تقسیم کا مسئلہ تو صدقے کے جانور کا گوشت انہی مصارف میں تقسیم کرنا چاہئے ،جن میں زکوۃ کی جاتی ہے۔زکوۃ کے مصارف درج ذیل ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿إِنَّمَا الصَّدَقـٰتُ لِلفُقَر‌اءِ وَالمَسـٰكينِ وَالعـٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّ‌قابِ وَالغـٰرِ‌مينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ ۖ فَر‌يضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٦٠﴾... سورة التوبة

’’زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کے لئے جو محتاج اور نرے نادار (مسکین) ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے (اسلام کی طرف مائل کرنا ہو) اور (مملوکوں کی) گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا (مقرر شدہ) ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔

صدقے کا گوشت اگر فرضی صدقہ سے تعلق رکھتا ہو تو اس کو صرف غریب غرباء کھاسکتے ہیں، غنی نہیں کھاسکتے،کیونکہ یہ لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہوتا ہے۔جس سے اغنیاء کو پرہیز کرنا چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ