سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(208) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی کا قصہ

  • 13729
  • تاریخ اشاعت : 2015-02-03
  • مشاہدات : 495

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض خطیبوں سے سنا گیا ہے کہ جب جنگِ یرموک ہوئی تو سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مبارک گم ہوگئی تو وہ گھبرا گئے۔ سب ساتھیوں سے کہنے لگے کہ میری ٹوپی تلاش کرو۔ کافی دیر کے بعد ٹوپی مل گئی۔ ساتھیوں نے جب ٹوپی دیکھی تو پرانی سی نظر آئی۔ انھوں نے خالد بن الولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس پرانی سی ٹوپی کے گم ہونے پر آپ کیوں گھبرا گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا:

’’اعتمر رسول الله صلی الله علیه وسلم فحلق راسه فابتدر الناس جوانب شعره فسبقتهم الی ناصیته، فجعلتها فی هذا القلنسوة، فلم اشهد قتالا فهی معی الا رزقت النصرة‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے سر کے بال منڈوائے تو لوگوں نے آپ کے بال بطورِ برکت حاصل کرنے کے لیے جلدی کی اور میں نے بھی آپ کی پیشانی مبارک کے بال لے لیے۔ پھر یہ بال میں نے اس ٹوپی میں (سلا کر) رکھ دئیے۔ اب ہر میدانِ جنگ میں اس ٹوپی کو پہن لیتا ہوں اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہر میدانِ جنگ میں فتح نصیب فرماتا ہے۔ کیا یہ واقعہ باسند صحیح ثابت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قصہ ’’عبدالحمید بن جعفر بن عبداللہ بن الحکم بن رافع عن ابیه‘‘ کی سند سے درج ذیل کتابوں میں موجود ہے:

(المعجم الکبیر للطبرانی (۴؍۱۰۴، ۱۰۵ ح۳۸۰۴) مسندابی یعلیٰ الموصلی (۱۳؍۱۳۹ ح۷۱۸۳) المستدرک للحاکم (۳؍۲۹۹ ح ۵۲۹۹ وقال الذہبی: ’’منقطع‘‘) دلائل النبوۃ (۶؍۲۴۹) اسد الغابۃ لابن الاثیر (۲؍۹۵ من طریق ابی یعلیٰ) سیر اعلام النبلاء (۱؍۳۷۴، ۳۷۵) المطالب العالیہ (المسندۃ ۸؍۴۲۱ ح۴۰۱۱، غیرالمسندۃ ۴؍۹۰ ح۴۰۴۴ عن ابی یعلیٰ) اتحاف المہرۃ (۴؍۴۰۶، ۴۰۷ ح۴۴۵۱) اتحاف الخیرۃ المھرۃ للبوصیری (۷؍۶۷ ح ۸۶۶۹، ۷؍۳۱۲ ح۹۱۴۱ وقال البوصیری: ’’بسند صحیح‘‘!) المقصد العلیٰ (۳؍۲۳۳ ح۱۴۳۲)

مجمع الزوائد (۹؍۳۴۹ وقال: ’’رواه الطبرانی وابویعلیٰ بنحوه ورجالهما رجال الصحیح وجعفر سمع من جماعة من الصحابة فلا ادری سمع من خالد ام لا‘‘) الاصابہ (۱؍۴۱۴ت۲۲۰۱)

اس قصے کے بنیادی راوی جعفر بن عبداللہ بن الحکم ثقہ ہیں۔ (تقریب التہذیب: ۹۴۴) لیکن سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ (متوفی ۲۲ھ) سے ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔

حافظ ذہبی نے اس سند کو منقطع قرار دیا ہے لہٰذا بوصیری کا اسے ’’بسندصحیح‘‘ کہنا غلط ہے۔ ہیثمی نے بھی یہ کہہ کر سند کے منقطع ہونے کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ اس نے خالد سے سنا ہے یا نہیں‘‘ عرض ہے کہ سننا تو درکنار سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جعفر بن عبداللہ بن الحکم کا پیدا ہونا بھی ثابت نہیں ہے۔ رافع بن سنان رضی اللہ عنہ تو صحابی ہیں لیکن الحکم بن رافع والی روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے الاصابہ (طبعہ جدیدہ ص۲۸۸ ت۲۰۰۲)

خلاصۃ التحقیق: یہ قصہ صحیح متصل سند سے ثابت نہیں ہے۔

جعفر بن عبداللہ بن الحکم کا ایک دو متاخر الوفاۃ صحابہ سے (مثلاً سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ) ایک دو حدیثیں سن لینا اس کی دلیل نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فوت ہونے والے صحابی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ضرور بالضرور ان کی ملاقات ثابت ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص479

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ