سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(83) سودی کاروبار اور سرکاری نوکری

  • 13604
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-26
  • مشاہدات : 368

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(۱) ایسے معاشرے میں سرکاری نوکری کرنا جائز ہے جہاں سارا معاشرہ سود کی لپیٹ میں ہو۔ جس طرح ہماری حکومت آئی ایم ایف وغیرہ سے سود قرض لیتی ہے اور ملک کو چلاتی ہے۔ کیا ہم سود میں شامل ہیں یا نہیں؟

(۲) پنشن لینا یا گولڈن ہینڈ شیک لینا یا بنکوں میں نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مجبوری کی حالت میں ایسی نوکری جائز ہے جس میں طاغوت اور سودی حکومت کو تقویت نہ ملتی ہو۔

ابو سعید صالخذری) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لیاتین علی الناس زمان یکون علیکم امراء سفهاء یقدمون شرار الناس و یظهرون یخیارهم و یوخرون الصلوة عن مواقیتها فمن ادرک ذلک منکم فلایکونن عریفا ولا شرطیا ولا جابیا ولا خازنا»

لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تمھارے حکمران بے وقوف ہوں گے۔ وہ برے لوگوں کو حکومت میں آگے لائیں گے اور نیک لوگوں کو پیچھے ہٹائیں گے۔ نماز کو اس کے اوقات سے لیٹ کر کے پڑھیں گے تم میں سے جو شخص ان کا زمانہ پائے تونہ ان کا عریف (قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا یعنی قومی و صوبائی اسمبلی کا نمائندہ، کونسلر، بی ڈی ممبر وغیرہ) بنے۔ نہ فوجی (سپاہی) بنے اور نہ ٹیکس اکٹھا کرنے والا اور نہ خزانچی بنے۔ (مسند ابی یعلی ۳۶۲/۲ ح۱۱۱۵، و سندہ حسن، موارد الظلمان: ۱۵۵۸) 

ا کی سند حسن لذاتہ ہے۔ عبدالرحمن بن مسعود کو ابن حبان، حاکم، ذہبی (المستدرک ج۳ ص۱۶۶) ہیثمی (مجمع الزوائد ج۵ ص۲۴۰) نے ثقہ و صحیح الحدیث قرار دیا ہے۔

عریف کے بارے میں النہایہ (۲۱۸/۳) میں لکھا ہا ہے: ’’وهو القیم بامور القبیلة او الجماعة من الناس یلی امورهم و یتعرف الامیر منه احوالهم»

اس تعریف میں MPA, MNA کونسلرز اور بی ڈی ممبران سب آتے ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص230

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ