سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) کاہنوں کی باتوں کی تصدیق کفر ہے

  • 13511
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-03
  • مشاہدات : 831

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علمائے دین کیا فرماتے ہیں ، اس مسئلہ کے بارے میں کہ کاہنوں کی تصدیق کرنا اسلام میں کفر ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے کاہنوں اور دجالوں کی مخالفت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی گناہ میں شریک ٹھہرایا ہے جو ان کے پاس جا کر سوالات کرتے ہیں اور ان کے اوہام اور گمراہ کن باتوں کی تصدیق کرتے ہیں ارشاد نبوی ہے:

قَالَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»

’’ جو شخص نجومی کے پاس گیا اور سوالات کئے پھر اس کی باتوں کی تصدیق کی اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہ ہوگی، ایک اور دوسرے مقام پر آپ نے فرمایا:

«مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ سَاحِرًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

’’ جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی اس نے محمدﷺ پر نازل شدہ ہدایت سے کفر کیا۔‘‘

کفر اس وجہ سے کہ نبی ﷺ پر ہدایت نازل کی گئی ہے کہ علم غیب اللہ وحدہ کے لیے ہے اور محمد ﷺ کو غیب کا علم نہیں ہے اور کسی اور کو تو بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے:

﴿قُل لا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ لَكُم إِنّى مَلَكٌ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحى إِلَىَّ...﴿٥٠﴾... سورة الأنعام

’’ آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے  ‘‘

قرآن کی اس صریح اور واضح ترین بات کو جاننے کے باوجود اگر ایک مسلمان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بعض لوگ پردہ ہٹا کر تقدیر کو دیکھ سکتے ہیں اور غیب کے راز ہائے سر بستہ معلوم کرسکتے ہیں تو وہ اس ہدایت کے ساتھ کفر کرتا ہے جو رسول اللہﷺ پر نازل ہوئی، لہذا ان بین دلائل کے پیش نظر ان امور کا ارتکاب کرنا کفر اور شرک ہے اور کفر موجب خلود فی النار ہے ۔ لہذا ایسے ’’ کفریہ عقیدہ سے فی الفور توبہ کرنی چاہیے۔‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص229

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ