سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(489) ترجمہ سے جہالت میں دم اور ٹیپ ریکارڈ پر دم کی حیثیت

  • 1293
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-26
  • مشاہدات : 841

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دم کئے جانے والی آیت قرآن کا ترجمہ سے واقف ہونا ضروری ہے؟ آیت کے ترجمہ سے جاہل اگر دم کرے تو ان الفاظ میں تاثیر ہوگی یا نہیں؟ ٹیپ ریکارڈ پر دم سننے سے اثر واقع ہوتا ہے۔؟ ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔جزاکم اللہ خیرا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دم کئے جانے والی آیت قرآن کا ترجمہ سے واقف ہونا ضروری ہے؟ آیت کے ترجمہ سے جاہل اگر دم کرے تو ان الفاظ میں تاثیر ہوگی یا نہیں؟ ٹیپ ریکارڈ پر دم سننے سے اثر واقع ہوتا ہے۔؟ ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔قرآن کی آیات بطور دم پڑھنے کے لیےاس کے ترجمہ سے واقفیت شرط نہیں ہے۔ کیونکہ دم کرکے پھونکنا الفاظ کی تاثیر کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے او راس میں پڑھنے والے کو ترجمہ نہ بھی آتا ہو تو اس کی تاثیر مسلم ہے۔

آپﷺ نے فرمایا:

إن من البیان لسحرا۔ (سنن ابوداؤد:5007)

’’بعض بیانوں میں جادو ہوتا ہے۔‘‘

اور آج یہ مشاہدہ بھی کیا جاتا ہے کہ بعض عاملین او رجادوگروں کو منتر پڑھتے ہوئے ان منتروں کاجو کہ ہندی بنگالی یا اور غیر شناسازبانوں میں ہوتے ہیں کامفہوم بالکل پتہ نہیں ہوتا لیکن ان کا اثر دیکھا گیا ہے او ریہ بھی مشاہدہ کی بات ہے کہ کچھ لوگ قرآن کا ترجمہ کیا اس کے تلفظ کو بھی تجوید سے نہیں پڑھ سکتے لیکن چند آیات رٹ کر وہ دم جھاڑو کرتے ہیں اور ان کے مریضوں پر یہ آیات پڑھنے کا اثر ہوتا ہے۔ دم کےاثر کا تعلق الفاظ کے مفہوم سے قطعا ً نہیں ہے سوائے اس کے کہ کوئی غیرشرعی الفاظ کہ جن میں شرک و خرافات کا پہلو پائے جاتے ہوں ان الفاظ کا جاننا ضروری ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ

حضرت مالک بن اشجعی فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کیا اےاللہ کے رسو لﷺ اس کے بارے میں آپ کیا رکھتے ہیں ؟تو آپﷺ نے فرمایا :مجھ پر اپنے دم پیش کرو دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک کا شائبہ نہ ہو۔(صحیح مسلم:2200)

لہٰذا قرآنی الفاظ یا کسی بھی دم کے مفہوم نہ جاننے کے باوجود اس کی تاثیر کی نفی سے متعلق ہمیں شریعت میں کوئی نص نہیں ملی۔

2۔مذکورہ بالا سطور میں بیان ہوچکا ہے کہ الفاظ کی تاثیر ہوتی ہے جیسا کہ اوپر حدیث بھی ذکر ہوچکی ہے۔ لہٰذا دم کا تعلق الفاظ سے ہے ناکہ پڑھنے والے سے۔ وہ الفاظ خواہ کسی بھی جگہ سے پڑھے جائیں اس کی تاثیر ہوگی اور اس کے لیے نیت کا ہونا ضروری نہیں کیونکہ جب الفاظ اداہوجاتے ہیں تو اس کی تاثیر خود بخود بن جاتی ہے۔ آج کل ٹیپ ریکارڈ پر سورہ بقرہ وغیرہ گھروں میں اونچی آواز میں لگائی جاتی ہے او رٹیپ ریکارڈ میں بولنے والے کی وہ فقط آواز ہوتی ہے اس لیے اس میں نماز کی طرح کہ ٹیپ ریکارڈ میں کوئی جماعت کی امامت کروالے درست نہ ہوگا کیونکہ اس میں امامت کروانا ایک عمل ہے جس کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے جبکہ ٹیپ ریکارڈ میں صرف آواز ہے او رنیت کرنے والا موجود نہیں۔ جبکہ دم کے لیے نیت مقصود نہیں الفاظ مقصود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس پر دم کیا جاتا ہے اس کا مسلمان ہونا اور اس دم کے الفاظ کے مفہوم سے واقف ہونا یا کسی اور شرط کی ضرورت نہیں اور اس کے باوجود ان پر ان الفاظ کا اثر ہوتاہے۔

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ