سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(198) ناخنوں کا بڑا ہونا

  • 127
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 1061

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ناخن اول تو بڑے ہونے نہیں چاہیں۔ مگر پھر بھی اگر بھول چوک ہو جائے، نہ یاد رہے اور وہ بڑے ہو جائیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ناخن تراشنے فطرتى سنت ميں داخل ہوتے ہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" پانچ چيزيں فطرتى ہيں: ختنہ كرنا، زيرناف بال صاف كرنا، مونچھيں كاٹنا، اور ناخن تراشنا، اور بغلوں كے بال ا كھيڑنا "

اسے امام بخارى اور امام مسلم نے روايت كیا ہے۔

اور ايك دوسرى حديث ميں دس فطرتى سنتيں بيان ہوئى ہيں جن ميں ناخن تراشنا بھى شامل ہے۔

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہمارے ليے مونچھيں كاٹنے، اور ناخن تراشنے، اور بغلوں كے بال اكھيڑنے، اور زيرناف بال مونڈنے ميں طے كيا كہ ہم انہيں چاليس يوم سے زيادہ نہ چھوڑيں "

اسے امام احمد، امام مسلم، اور امام نسائى نے روايت كيا ہے، اور يہ الفاظ احمد كے ہيں۔

اس ليے ناخن نہ تراشنے والا شخص فطرتى سنتوں ميں سے ايك سنت كا مخالف ہے، اور اس ميں حكمت صفائى و ستھرائى ہے، كہ ناخنوں كے نيچے ميل كچيل جمع ہو جاتى ہے، اور پھر اس ميں كفار كى مشابہت سے بھى اجتناب ہے جو اپنے ناخن لمبے ركھتے ہيں، اور پھر حيوانوں اور وحشى جانور جن كے لمبے لمبے ناخن ہوتے ہيں ان سے بھى مشابہت نہيں ہوتى۔

ديكھيں:فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلميةوالافتاء ( 5 / 173 ).

آج عورتوں كى اكثريت ناخن لمبے ركھ كر پھر انہيں مختلف قسم اور رنگا رنگ نيل پالش سے رنگ كر وحشى جانوروں اور كفار كى مشابہت ميں پڑى ہوئى ہے، اور يہ منظر انتہائى قبیح اور غلط نظر آتا ہے، اور ہر عقل مند اور سليم فطرت ركھنے والے شخص كو اس سے نفرت پيدا ہوتى ہے، اور اسى طرح بعض لوگوں كى برى عادت يہ بھى ہے كہ وہ اپنا ايك ناخن لمبا ركھتے ہيں۔

يہ سب فطرتى سنت كى واضح اور بين مخالفت ہے، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں سلامتى و عافيت نصيب فرمائے، اللہ تعالى ہى صحيح اور سيدھى راہ كى طرف راہنمائى كرنے والا ہے۔

شیخ صالح المنجد اس بارے ایک  فتوی کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

ناخن لمبے كرنا اگر حرام نہ بھى ہوں تو يہ مكروہ ضرور ہيں، كيونكہ

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ناخن كاٹنے كے ليے وقت مقرر كرتے ہوئے حكم ديا كہ وہ چاليس يوم سے زيادہ نہ چھوڑيں جائيں۔

اسے امام مسلم نے كتاب الطہارت حديث نمبر ( 258 ) ميں روايت كيا ہے۔

يہ بات اور بھى بہت عجيب و غريب سى ہے كہ جو لوگ ترقى يافتہ اور شہرى ہونے كے دعوے كرتے ہيں وہ ان ناخنوں كو كاٹتے ہى نہيں بلكہ لمبے كرتے ہيں، حالانكہ ان ميں گندگى اور ميل كچيل پھنسى ہوتى ہے اور اس سے انسان حيوان كے مشابہ ہونے لگتا ہے۔

اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو چيز خون بہائے اور اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہو اسے كھالو، دانت اور ناخن .... دانت تو ہڈى ہے، اور ناخن حبشيوں كى چھرى "

صحيح بخارى الشركة حديث نمبر ( 3507 ) صحيح مسلم كتاب الاضاحى حديث نمبر ( 1968 )۔

يعنى وہ اپنے ناخنوں كو چھرى بنا كر اس سے ذبح كرتے اور گوشت وغيرہ كاٹتے ہيں، يہ تو ان لوگوں كا طريقہ ہے جو وحشى جانوروں كى طرح ہيں۔

ديكھيں: كتاب الدعوة ( 5 ) الشيخ ابن عثيمين ( 2 / 79 )۔

درج بالا فتاوی سے یہ نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:

1۔ پس چالیس دن سے زائد ناخنوں کو لمبا کرنا ،ناجائز ہے۔

2۔چالیس دن آخری حد ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہےکہ چالیس دن بعد ہی کاٹے جائیں۔

3۔ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ جیسے ہی انسان کے ناخن اتنے لمبے ہوں کہ ان میں میل کچیل کے جمع ہونے کے امکانات ہوں تو انہیں کاٹ لے اور یہی سنت مطہرہ ہے۔

4۔ ناخن لمبے ہونے سے کھانے پینے کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اگرچہ ناخنوں میں جمع شدہ میل کچیل انسان کے کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے اس کی صحت کے لیے ضرر رساں ہو سکتی ہے۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ