سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(465) اسلام میں جادو کرنے یا کروانے کی سزا

  • 12484
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-19
  • مشاہدات : 3599

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نوری علم یا کالا علم، اسی طرح نوری جادو یا کالا جادو کرنے اور کروانے کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسلام میں جادو کرنے یا کروانے کی کیا سزا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عام طور پر جادو کو کالا علم اور اس کے مقابلہ میں قرآنی عملیات کے ذریعے علاج کرنے کو نوری علم کہا جاتا ہے۔ کوئی جادو نوری نہیں ہو تا۔قرآنی سورتوں کو پڑھ کر اگر دم کیا جائے تو جائز ہے۔ لیکن ہمارا مشاہدہ ہے کہ قرآنی عملیات کے ذریعے علاج کرنے والے حضرات بھی ان سورتوں میں بعض کلمات کا اضافہ کرتے ہیں ، ایسا کرنا بھی جادو ہی ہے۔ کیونکہ قرآنی الفاظ کی ترتیب بدلنا یا ان میں کلمات کے اضافہ سے شیاطین کا قرب مقصود ہوتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے مریض سے متعلقہ معلومات حاصل کی جائیں پھر اس پر اپنی فنکاری کا سکہ جمایا جائے۔ اس قسم کے معالجین سے اجتناب کرنا چاہیے۔ شریعت میں جادو کرنے کوبڑے ہلاکت خیز گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ’’کہ سات تباہ کن گناہوں سے دور رہو۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کے ساتھ شریک کرنا… اور جادو کرنا…‘‘ [صحیح بخاری، الطب،۵۷۶۴]

جس طرح جادو کرنا بہت سنگین جرم ہے ، اسی طرح جادوگروں کی باتوں پر یقین کرنا بھی انتہائی خطر ناک گناہ ہے۔چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ’’تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے شراب پینے والا، قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا اور جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا۔‘‘     [مسند امام احمد، ص۳۹۹، ج۴]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کا موقف تھا کہ جادو گر کو قتل کردیا جائے، چنانچہ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے اپنی شہادت سے ایک سال قبل سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں۔ راوی کہتا ہے ۔ ’’حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کی ایک سال وفات سے قبل ان کا خط ہمیں موصول ہوا۔ انہوں نے فرمایا، ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کردو، چنانچہ ہم نے تین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔     [مسند امام احمد، ص:۱۹۰، ج۱]

لیکن ہمارے ہاں اسلامی قانو ن نہیں ہے کہ جادو گر کو قتل کردیا جائے، اس لئے اس طرح کے’’کاٹ کے ماہر، کایا پلٹ‘‘ عاملوں کو تحفظ حاصل ہے، جادو گرکو قتل کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہمیں قانون کو ہاتھ میں لے کر یہ اقدام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:457

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ