سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(411) السلام علیکم کے مترادف الفاظ استعمال کرنا

  • 12422
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-16
  • مشاہدات : 1200

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل ہمارے معاشرے کے مسلمان کفارکی نقالی کرتے ہوئے نئے نئے فقرے استعمال کرتے ہیں، مثلاً: السلام علیکم کے بجائے ہیلو،ہائے ،اوکے ،فائن اور گڈ وغیرہ اس قسم کے مسلمانوں کے متعلق ہمیں کیاموقف اختیار کرنا چاہیے ،منع کرنے کے باوجود بھی بازنہیں آتے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری اکثریت یہودونصاریٰ اورکفار ومشرکین کی نقالی پرفخر کرتی ہے ۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسادین عطافرمایاجس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے راہنمائی موجود ہے۔اس کے باوجو دہم مغربی تہذیب کوپسند کرتے ہیں۔یہ نقالی لباس وزینت ،تقریبات ،چال ڈھال ،خلق وعادات ،شادی اورخوشی کے تمام مواقع پرمشتمل ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہودونصاریٰ کی نقالی سے مطلق طورپرمنع فرمایاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی ۔‘‘    [۵۷/الحدید:۱۶]

اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ  لکھتے ہیں کہ ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کواہل کتاب کے اصولی اورفروعی مسائل میں نقالی کرنے سے منع فرمایاہے۔‘‘    [ص: ۳۱۰،ج۴]

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ’’جوشخص کسی کی مشابہت اختیارکرتا ہے وہ قیامت کے دن انہی میں اٹھایاجائے گا۔‘‘ [ابوداؤد ،ص: ۱۷۳، ج۲ ]

ان واضح جوابات کے باوجود ہماراکردارانتہائی قابل افسوس ہے کہ ہم فون کرتے وقت سلام کہنے کے بجائے لفظ ہیلو استعمال کرتے ہیں ،اپنے حالات سے کسی کوآگاہ کرتے وقت الحمدللہ کہنے کے بجائے گڈ ،فائن جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔اس ظاہری تہذیب وثقافت کواپنانے میں ہماراباطن ضرورمتاثر ہوتا ہے۔اس قسم کاطرززندگی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب سے محبت کے بجائے مغربی کلچر سے زیادہ انس ہے۔اس قسم کے مسلمانوں کے ساتھ ہمارارویہ ناصحانہ ہوناچاہیے ،انہیں ہمدردی کے ساتھ اپنے دین کی تعلیم دینی چاہیے۔ ان سے بے رخی اختیار کرناکسی صورت بھی صحیح نہیں ہے ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایاتھا ’’اے اللہ !میری قوم کوہدایت فرمایہ اس کی قدروقیمت سے ناآشناہیں۔ ‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:413

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ