سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(146) گھر میں لید کی موجودگی فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتی۔

  • 11866
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 510

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض کہتے ہیں ‘لید جس کے گھر میں ہو فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے ‘کیا یہ صحیح ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قول ہم نے کتا بوں میں کہیں نہیں دیکھا ظاہر تو یہی ہے کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ گوشت کھائے جانے  والے جانورں کی مینگنیاں لید گوبر  پا ک ہے یہ  بحث مسئلہ (نمبر:130) میں گزر چکی ۔جب کوئی پاک  چیز تمہارے گھر میں ہو تو فرشتوں کو نہیں  روکتی ۔ہا ں فرشتے نظافت پسند ہیں۔(بد بو سے فرشتوں کو نفرت ہے)(مترجم)۔

صاحب ھدایہ (4؍468) میں کہتے ہیں ’’کتاب الکریمہ ‘‘مینگنیوں کے بیچنے میں کو ئی حرج نہیں ۔ اور انسانی براز  کا  بیچنا مکروہ ہے ۔الکفلیۃ علی فتح  القدیر ( 8؍386) میں کہا ہے اس کا کہنا کہ مینگنیوں کے بیچنے  میں کو ئی حرج نہیں ۔ سعد بن ابی وقاص ﷜ سے مروی ہے کہ وہ اپنی  زمین میں مینگنیاں ڈلوایا کرتے  تھے اور کہتے تھے لینے والے پر نہ کہ دینے والے  پیمانے پر(یعنی  ناپ تول پورا ہونے چاہیے)۔عرب کہتے ہیں:’’عر الارض‘‘جب زمین میں مینگنیاں کھاد وغیرہ ڈالکر درست کیا جائے ۔اور العرۃ مینگنیوں کو‘کہا جاتا ہے امام قرطبی ﷫ اپنی تفسیر(6؍289) میں کہتے ہیں ’’خون وشراب  کی خرید  فروخت کی حرمت پرمسلمانوں کا اجماع ہے ’اس میں دلیل ہے کہ گوبر براز سمیت تمام نجاستیں اور جس کا کھانا  حلا ل نہیں بیچنا حرام ہے ۔ واللہ اعلم۔

امام مالک ﷫ نے جانورں کے براز کے بیچنے کو مکروہ کہا ہے ’ابن قاسم اس میں منفعت  کی وجہ سے اس کی بیع کی رخصت دیتے ہیں قیاس کا تقاضا تو  وہی ہے جو امام مالک﷫ فرماتے  ہیں ۔اور یہی امام شافعی ﷫ کا مذہب ہے  اور یہ حدیث  اس کی صحت کی شہادت  دیتی ہے  یعنی ابن عباس ﷜ کی حدیث  جو مسلم میں ہے جس میں شراب سے سرکہ بنا لینا  اور فروخت کرنے  کی ممانعت ہے۔المجموع(9؍230) میں ہے :’’ حلا ل جانورں  اور کبو تروں کے براز کی خرید و فروخت باطل ہے اور اس کی قیمت حرام ہے یہ ہمارا مذھب ہے ۔اور امام ابو حنیفہ ﷫کہتے ہیں ’’جانوروں کے براز کی خرید فروخت  جائز ہے کیو نکہ ہر زمانے میں تمام علا قے کے لوگوں کا اس پر اتفاق رہا  ہے اور کسی نے انکار نہیں کیا ۔‘‘اور اسی طرح (2؍550) میں بھی آیا ہے ۔چونکہ ان سے نفع اٹھانا جائز ہے   اس لیے دیگر اشیاء کی طرح ان کی بھی خرید و فروخت جائز ہے ۔

اور المرداری کی الانصا ف (4؍280) میں ہے ‘‘مذہب  میں مینگنیوں کی خرید و فر وخت  جائز نہیں لیکن  مھنا  روایت  کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ  میں نے امام احمد﷫ سے پو چھا  ‘ مینگنیوں  اور گوبر کی فروخت  کے بارے میں انہوں نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ۔

میرے نزدیک ان کی خرید  وفرخت جائز ہے کیونکہ اصل تمام چیزوں میں اباحت  ہوتی ہے جب تک کوئی صحیح دلیل مانع نہ ہو اور وہ یہاں نہیں پائی جاتی اور جنہوں نے ان کی خرید و فروخت حرام کی ہے تو انہوں  نے اس کی علت  نجاست  بیان کی ہے اور ہم ذکر کر  چکے کہ کھاے جانے  والے جانوروں کے براز کو نجس کہنا ضعیف ہے صحیح  تو یہی ہے کہ وہ پاک ہے ان دلائل کی وجہ سے جو ہم ذکر کر چکے ۔اور گھر میں پیشاب پاخانے کا موجود  ہونا فرشتوں کے دخول سے مانع نہیں ۔کیو نکہ حدیث صحیح میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں رات کو لکڑی کے برتن میں پیشاب کرتے تھے جیسے کہ ابو داؤد نے رویت کیا ۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص332

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ