سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(385) جہیز کی شرعی حیثیت

  • 11651
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-14
  • مشاہدات : 1845

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ابو بکر صدیق نیازی میا ں والی سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیز دینے کا عام رواج ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔کچھ لوگ اسے لعنت قرا ر دیتے ہیں۔اگرجائز ہے تو کس حد تک اس کی اجازت ہے۔قرآن وحدیث کی رو سے وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ لڑکی کو جہیز دینے کے سلسلے میں ہم افراط وتفریط کا شکار ہیں۔حالانکہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس میں انتہا پسندی درست نہیں ہے۔البتہ یہ ایک فطری بات ہے۔کہ جب والداپنی لخت جگر کو شادی کے موقع پر گھر سے رخصت کرتا ہے تو حسب استطاعت کچھ سامان دینا دونوں کے لئے باعث فرحت وانبساط ہے۔ محدثین کرام نے اس مسئلہ کو اپنی کتب حدیث میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ امام نسائی  رحمۃ اللہ علیہ   اپنی سنن میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کرتے ہیں۔

''باب جهاذ الرحل ابنته '' باپ کی طرف سے بیٹی کوجہیز دینے کا بیان۔پھر حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو چادر مشکیزہ اورا یک تکیہ جس میں روئی کی بجائے اذخر گھاس بھر  ی ہوئی تھی۔بطور جہیز دیا(کتاب النکاح)  اس وقت آپ نے جو سامان دیا  اس کے لئے لفظ ''جھز'' استعمال کیا۔

مسند ا مام احمد میں مذکور ہے۔کے سامان کے ساتھ چکی اور دو مٹکوں کا بھی زکر ہے۔(مسند امام احمد :1/104)

اسی طرح جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کو اپنے حبالہ عقد میں لیا تو وہ حبشہ میں تھیں حضرت نجاشی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس کا نکاح پڑھایا پھر چار ہزار درہم اپنی طرف سے بطور حق مہر دیا  اس کے ساتھ اپنی گرہ سے جہیز کا بھی بندوبست کیا حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

''ثم جهزها من عنده.....وجهازها كله من عند النجاشي ولم يرسل اليها رسول الله صلي الله عليه وسلم بشئ ''(مسند امام احمد :4/427)

''حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا جہیز حضرت نجاشی کی  طرف سے تھا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی بندوبست نہیں کیا  تھا۔'' مسند امام احمد کی ان احادیث پر احمد بن عبد الرحمٰن البنا الساعاتی بایں الفاظ عنوان قائم کرتے ہیں۔''باب ماجاء في الجهاز '' ''جہیز دینے کا بیان'' احادیث زکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

''ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہیز کے متعلق میانہ روی اختیار کی جائے صرف ضروریات کے پیش نطر اس کا  اہتمام ہونا چاہیے۔مبالغہ آمیزی  سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمارے اس دور میں تو اس کے متعلق بہت اسراف کیا جاتا ہے۔جس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بلکہ لوگ فخرومباہات کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ غریب آدمی اپنا مکان فروخت کرتا ہے۔بعض دفعہ قرضہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ایسا کرنا بالکل حرام ہے۔(فتح الربانی :16/177)

علامہ ساعاتی نے ان قباحتوں کا زکرکیا ہے۔ جو ہمارے معاشرے میں در آئی ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ جہیز دینے میں کوئی حرج نہیں بشرط یہ کہ مندرجہ زیل باتوں کاخیال رکھا جائے۔

1۔اسے شادی کا جزو خیال نہ کیا جائے۔کہ اس کے بغیر شادی نامکمل رہتی  ہو۔

2۔لڑکے والوں کی طرف سے کسی قسم کا مطالبہ نہ ہو خودوالد اپنی خوشی سے جو دینا چاہے دےدے۔

3۔خود والد بھی حسب استطاعت دے ایسا نہ ہوکہ بچی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے زندگی بھر قرض کے نیچے دبارہے۔

4۔ جو کچھ دینا چاہے نہایت سادگی سے خاموشی سے دے دیا جائے اسے شہرت نمود ونمائش اور فخر ومباہات کازریعہ نہ بنایا جائے۔

5۔اس سلسلے میں عدل وانصاف سے کام لیا جائے۔ باقی بچوں اور بچیوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

6۔سامان  جہیز کے عوض بچی کو قطعی طور سے وراثت سے محروم نہ کیا جائے۔

7۔کوئی ناجائز چیز یا جس  کا استعمال ناجائز ہوا  اسے جہیز میں نہ دیا جائے۔ مثلا ٹی وی اور وی سی آر  و غیرہ باالفاظ دیگر فضولیات کے بجائے صرف ضروریات کا خیال رکھا جائے۔یہ بات جو مشہور ہے کہ حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی زرہ فروخت کرکے سامان جہیز خریدا گیا تھا اس کے متعلق کوئی حوالہ ہمارے علم میں نہیں ہے۔اگر ایسا ہوا ہے تو کوئی حرج والی بات نہیں ہے کیوں کہ حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زیر کفالت تھے۔ نیز  روایات میں تفصیل کے لئے ابودائود نسائی اور مسند امام احمد کودیکھا جاسکتا ہے۔(واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:397

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ